ٹرمپ کا اسپین کے ساتھ تمام تجارتی سرگرمیاں فوری روکنےکا حکم

ٹرمپ نے ایک بار پھر اسپین کے ساتھ تنازع چھیڑ دیا اور اسے بہت برا اتحادی قرار دیا۔

July 8, 2026 · بام دنیا
فائل فوٹو

فائل فوٹو

انقرہ: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسپین کے ساتھ تمام تجارتی سرگرمیاں فوری طور پر روکنےکا حکم دے دیا۔

برطانوی خبر ایجنسی کے مطابق انقرہ میں ہونے والے نیٹو سربراہی اجلاس کے دوران جہاں یورپی رہنما امید کر رہے تھےکہ نیٹو کے اندر موجود اختلافات ختم ہو جائیں گے، ٹرمپ نے ایک بار پھر اسپین کے ساتھ تنازع چھیڑ دیا اور اسے بہت برا اتحادی قرار دیا۔

ٹرمپ نے ڈنمارک کو بھی ناراض کیا اورکہا کہ گرین لینڈ پر امریکہ کا کنٹرول ہونا چاہیے۔ اس پر ڈنمارک نےکہا کہ وہ اپنی سرزمین کے ایک ایک انچ کا دفاع کرےگا۔اجلاس کے دوران ٹرمپ نے نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے سےکہا کہ سپین کسی بات پر راضی نہیں ہوتا، آپ کو اس کا بوجھ نہیں اٹھانا چاہیے۔ میں ان کے ساتھ کوئی تجارت نہیں کرنا چاہتا۔ ٹرمپ نے امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کو ہدایت کی کہ اسے فوراً نافذ کریں، سپین سے بات بھی نہ کریں، وہ برے لوگ ہیں، وہ ہم سے بہت زیادہ پیسہ کماتے ہیں، اب ہم دیکھیں گے کہ وہ کم کمائیں۔

دوسری جانب اسپین کے وزیر اعظم کے دفتر نے ایک بیان میں کہا ہےکہ وہ ٹرمپ کے بیانات کو معمول کی بات سمجھتے ہیں اور واشنگٹن کے ساتھ اپنے بہترین تعلقات میں کوئی تبدیلی لانےکا ارادہ نہیں رکھتے۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ سپین کا امریکہ کے ساتھ تجارتی خسارہ ہے، یعنی سپین امریکہ سے زیادہ خریدتا ہے اور کم فروخت کرتا ہے، اور دونوں ممالک کے معاشی تعلقات حکومتوں کے بجائے نجی کمپنیوں کے ذریعے قائم ہیں، جب کہ یورپی کسٹمز اور تجارتی اتحاد کا حصہ ہونے کی وجہ سے کسی ایک یورپی ملک کو الگ کرکے تجارتی اقدامات کا نشانہ نہیں بنایا جاسکتا۔