یوکرینی ڈرون حملوں کے بعد روس نے ڈیزل کی برآمدات پر پابندی عائد کر دی
پابندی کا اطلاق ڈیزل پیدا کرنے والی کمپنیوں پر بھی ہوگا ، یہ 31 جولائی تک نافذ رہے گی ، روسی حکومت
فائل فوٹو
ماسکو: روس نے ملکی سطح پر ایندھن کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے ڈیزل کی برآمدات پر عارضی پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ فیصلہ یوکرین کی جانب سے روسی آئل ریفائنریوں پر مسلسل ڈرون حملوں کے بعد سامنے آیا ہے، جن کے باعث ملک کے مختلف علاقوں میں ڈیزل اور پیٹرول کی قلت اور قیمتوں میں اضافے کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔
روسی حکومت کے مطابق پابندی کا اطلاق ڈیزل پیدا کرنے والی کمپنیوں پر بھی ہوگا اور یہ 31 جولائی تک نافذ رہے گی۔ نائب وزیراعظم الیگزینڈر نوواک نے حکومتی اجلاس میں کہا کہ ملک میں ایندھن کی صورتحال اب بھی پیچیدہ ہے اور مختلف علاقوں میں پٹرول پمپوں پر طویل قطاریں عوامی تشویش کا باعث بن رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ڈیزل کی برآمدات پر پابندی سے ملکی منڈی میں سپلائی میں اضافہ ہوگا، جبکہ روس جولائی کے دوران بیرون ملک سے بھی ایندھن درآمد کرنا شروع کرے گا تاکہ اندرونِ ملک طلب پوری کی جا سکے۔
روسی فیصلے کے بعد یورپ میں ڈیزل کے منافع کا اشاریہ ریکارڈ 60.17 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا، جس سے عالمی منڈی میں بھی اس اقدام کے اثرات نمایاں ہوئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق جون میں روس کی سمندری راستے سے ڈیزل اور گیس آئل کی برآمدات گزشتہ ماہ کے مقابلے میں 39 فیصد کم ہو کر تقریباً 18 لاکھ میٹرک ٹن رہ گئیں، جبکہ ایک سال قبل اسی ماہ کے مقابلے میں ان میں 46 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
جون کے دوران ترکی اور برازیل روسی ڈیزل کے سب سے بڑے خریدار رہے اور دستیاب برآمدی کارگو کا کم از کم نصف انہی دونوں ممالک نے خریدا۔ اس کے علاوہ مراکش، مصر اور سینیگال بھی روسی ڈیزل درآمد کرنے والے نمایاں ممالک میں شامل رہے۔