ایران کے 90 فوجی اہداف پر امریکی حملوں کا دعویٰ
ان کارروائیوں کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر ہونے والے حملوں کے جواب میں خطے میں بحری سلامتی کو یقینی بنانا اور ممکنہ خطرات کو کم کرنا ہے۔
امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹ کام) نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ فوجی کارروائی کے دوران ایران میں تقریباً 90 فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جن میں فضائی دفاعی نظام، میزائل اور ڈرون تنصیبات سمیت مختلف عسکری مراکز شامل تھے۔
سینٹ کام کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ کارروائی کے دوران ایران کے فضائی دفاعی نظام، ساحلی نگرانی کے مراکز، میزائل اور ڈرون ذخیرہ گاہوں، بحری صلاحیتوں اور ساحلی علاقوں میں قائم فوجی لاجسٹکس کے بنیادی ڈھانچے کو ہدف بنایا گیا۔
بیان کے مطابق اس سے ایک روز قبل بھی امریکی افواج نے ایران میں متعدد فوجی اہداف پر کارروائیاں کی تھیں۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ان حملوں میں پاسداران انقلاب سے منسلک درجنوں چھوٹی کشتیوں سمیت مختلف عسکری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
امریکی حکام کے مطابق ان کارروائیوں کا مقصد آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر ہونے والے حملوں کے جواب میں خطے میں بحری سلامتی کو یقینی بنانا اور ممکنہ خطرات کو کم کرنا ہے۔
سینٹ کام نے اپنے بیان میں کہا کہ امریکی افواج خطے کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور کسی بھی نئی پیش رفت کی صورت میں کمانڈر اِن چیف کی ہدایات کے مطابق کارروائی کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
دوسری جانب ایران کی جانب سے امریکی دعوؤں پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی برادری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔