غیرملکی خواتین اغوا کیس کے ایک ملزم کی بیوی دفاع کیلئے سامنے آگئی
ساجد خان کا مرکزی ملزم رضا ڈار یا دیگر گرفتار افراد سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی وہ متاثرہ غیر ملکی خواتین کو جانتا تھا
لاہور میں غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغوا اور زیادتی کیس میں گرفتار ملزم ساجد خان کے اہل خانہ نے اپنی بے گناہی کا دعویٰ کرتے ہوئے شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
ملزم کی اہلیہ شاہین بی بی اور بھائی کا کہنا ہے کہ ساجد خان صرف ایک رہائشی کوٹھی کا گارڈ تھا اور کرائے پر دینے کے انتظامات دیکھتا تھا۔ ان کے مطابق 2 جولائی کی صبح تقریباً 4 بجے چابی گم ہونے کی اطلاع ملنے پر وہ گھر سے نکلا، جس کے بعد واپس نہیں آیا۔
اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ساجد خان کا مرکزی ملزم رضا ڈار یا دیگر گرفتار افراد سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی وہ متاثرہ غیر ملکی خواتین کو جانتا تھا۔ انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے واقعے کی غیر جانبدار اور شفاف تحقیقات کرانے کی اپیل کی ہے۔
رات گئے اہم خبر : غیر ملکی خواتین کے کیس میں گرفتار اہم ملزم ساجد خان کے اہل خانہ نے بڑا اعلان کردیا ۔۔۔ اگر ساجد قصور وار نکلا تو ہم ساری فیملی خو۔د۔ کشی کر لیں گے ۔۔۔ دو غیرملکی خواتین کے اغوا اور زیا۔دتی کیس میں گرفتار ملزم ساجد خان کی بیوی اور بھائی نے ایک اور ہی کہانی بیان… pic.twitter.com/JZhy1C4zPU
— Maria Baloch (@MariaBalochPK) July 9, 2026
ساجد خان کے بھائی نے کہا کہ اگر عدالت میں ساجد کا جرم ثابت ہو گیا تو پوری فیملی خودکشی کر لے گی، جبکہ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وہ خود کو آگ لگا لیں گے۔
واضح رہے کہ اس مقدمے میں رضا ڈار، حسن رضا، سکندر خان اور ساجد علی سمیت چار ملزمان گرفتار کیے جا چکے ہیں۔ پولیس کے مطابق کارروائی کے دوران نیدرلینڈز اور وینزویلا سے تعلق رکھنے والی دو غیر ملکی خواتین کو بازیاب کرایا گیا، جو بعد ازاں اپنے ممالک واپس روانہ ہو چکی ہیں۔ حکام کے مطابق کیس کی تفتیش جاری ہے اور مزید قانونی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔