بھارتی ہیکرزکا سیکیورٹی اداروں اور پاک چین اقتصادی تعاون کا ڈیٹا چوری کرنے کی کوشش
قانون نافذ کرنے والے اداروں پر بیک وقت متعدد غیر ملکی ہیکرز کے حملے، ہدف کی اعلیٰ اہمیت کا ثبوت ہیں، سینٹینل ون
فائل فوٹو
اسلا م آباد: پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے متعدد اداروں کو چین اور بھارت سے وابستہ ہیکرز کے گروپس کی جانب سے الگ الگ سائبر حملوں (ہیکنگ مہم) میں نشانہ بنایا گیا ہے۔ یہ سنسنی خیز انکشاف سائبر سیکیورٹی کے عالمی ادارے ‘سینٹینل ون’ (SentinelOne) کے محققین نے جمعرات کو جاری کردہ ایک رپورٹ میں کیا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین کے مطابق ان معلوماتی حملوں کا بنیادی مقصد پاکستان کے اندرونی سیکیورٹی چیلنجز، عسکریت پسندی، پڑوسی ملک افغانستان کے ساتھ جاری کشیدگی اور چین کے ساتھ پاکستان کے اقتصادی تعاون (سی پیک و دیگر منصوبوں) سے متعلق اہم ترین ڈیٹا اور معلومات تک رسائی حاصل کرنا تھا۔
سائبر سیکیورٹی فرم ‘سینٹینل ون’ کے پرنسپل تھریٹ ریسرچر الیگزینڈر میلینکوسکی نے اس حوالے سے جاری کردہ اپنے ایک بلاگ میں لکھا ہے کہ جب متعدد ممالک کے سائبر جاسوس (ہیکرز) کسی ایک ہی ریاست کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بیک وقت نشانہ بنا رہے ہوں، تو یہ بذاتِ خود اس بات کی علامت ہے کہ ان اداروں کا ڈیٹا دشمنوں کے لیے کتنی زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔
انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے لکھا کہ ہیکرز کو اس قسم کے مخصوص ادارے اس لیے راغب کرتے ہیں کیونکہ ان کے پاس حکومت کا اندرونی سیکیورٹی سے متعلق پورا نقشہ موجود ہوتا ہے۔ ان اداروں کو بخوبی علم ہوتا ہے کہ ملک کی حدود کے اندر کیا خطرات موجود ہیں اور ریاست ان کے خلاف کیا اقدامات اٹھا رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق جن اداروں کو ان سائبر حملوں میں نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی، وہ ملک کے اندرونی و بیرونی خطرات کی نگرانی کرنے سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں اور حکومتی حکام کے مابین سیکیورٹی روابط اور جوابی کارروائیوں کو مربوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔