آبنائے ہرمز ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی
چند روز میں تین جہازوں پر حملوں کے بعد اہم بحری گزرگاہ کا مستقبل غیر یقینی۔
امریکہ اور ایران کے درمیان 17 جون کو جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال کرنے کے لیے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کے تین ہفتوں بعد ایک بار پھر اس اہم بحری گزرگاہ کے مستقبل پر غیر یقینی کے سائے منڈلانے لگے ہیں۔
حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تین تجارتی جہازوں پر حملے کیے گئے، جس کے بعد ایران نے دعویٰ کیا کہ ان جہازوں نے اس کی منظوری کے بغیر گزرنے کی کوشش کی تھی۔ اس کے جواب میں امریکا نے ایران کے ساحلی شہروں پر حملوں میں شدت لائی اور بعد ازاں جمعرات کی صبح دارالحکومت تہران کو بھی نشانہ بنایا۔
جوابی کارروائی میں ایران نے متعدد خلیجی ممالک کی جانب میزائل اور ڈرون حملے کیے، جبکہ جمعہ کو ایرانی حکام نے ملک کے مختلف علاقوں پر مزید حملوں کی اطلاعات بھی دیں۔
یہ صورتحال عالمی معیشت کے لیے باعثِ تشویش بن گئی ہے، کیونکہ دنیا کی تیل اور تجارتی رسد کا بڑا حصہ آبنائے ہرمز کے ذریعے گزرتا ہے۔ حالیہ کشیدگی نے ایک بار پھر عالمی بحری تجارت اور توانائی کی فراہمی کے مستقبل پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی جائزہ لیا گیا ہے کہ 17 جون کے معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز سے کتنے بحری جہاز گزرے اور اس دوران کتنے جہاز حملوں کا نشانہ بنے۔