اسلام آباد کے سیکٹر F-15 میں دھماکہ،خاتون سمیت متعدد افراد زخمی
اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122، پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں اور امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔
اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت کے علاقے تھانہ ترنول کی حدود میں واقع سیکٹر F-15 میں ایک رہائشی گھر میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہو گئے، جبکہ مکان کے ایک حصے کو بھی نقصان پہنچا۔ واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور بڑی تعداد میں شہری جائے وقوعہ پر جمع ہو گئے۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق حادثہ ہفتہ کی صبح پیش آیا۔ اطلاع ملتے ہی ریسکیو 1122، پولیس اور دیگر متعلقہ اداروں کی ٹیمیں فوری طور پر موقع پر پہنچ گئیں اور امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔ زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد مختلف اسپتالوں میں منتقل کیا گیا، جہاں انہیں طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق زخمیوں میں ایک خاتون، ان کی کمسن بیٹی سمیت مجموعی طور پر چار افراد شامل ہیں۔ ڈاکٹرز کے مطابق زخمیوں کے جسم کے مختلف حصے جھلسے ہیں، تاہم تمام متاثرہ افراد کو بروقت طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے کی وجوہات کے حوالے سے مختلف امکانات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ابتدائی شواہد سے گیس لیکیج، گیس سلنڈر یا الیکٹرک گیزر میں فنی خرابی جیسے پہلو سامنے آئے ہیں، تاہم کسی ایک وجہ کی تصدیق ابھی نہیں کی گئی۔ متعلقہ تکنیکی ٹیمیں جائے وقوعہ کا معائنہ کر رہی ہیں اور مکمل تحقیقات کے بعد ہی حادثے کی اصل وجہ واضح کی جائے گی۔
اسلام آباد کے علاقے ترنول میں گیس کا دھماکہ
صبح دس بجے ہونے والے دھماکے میں ماں بیٹی زخمی ہوئیں۔
لیکن عمارت کو غیرمعمولی نقصان پہنچا pic.twitter.com/Wk5odLL5D2— Daily Ummat (@ummatdigitalpk) July 11, 2026
دھماکے کی شدت کے باعث مکان کے متاثرہ حصے کی دیواروں اور چھت کو بھی نقصان پہنچا، جبکہ آس پاس موجود افراد بھی خوفزدہ ہو کر گھروں سے باہر نکل آئے۔ پولیس نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کر لیے ہیں اور مختلف پہلوؤں سے تحقیقات جاری ہیں۔
انتظامیہ نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ گھروں میں استعمال ہونے والے گیس سلنڈرز، گیس پائپ لائنوں، ریگولیٹرز، گیزرز اور دیگر گیس سے چلنے والے آلات کی باقاعدگی سے جانچ کروائیں۔ حکام نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر کسی جگہ گیس کی بو محسوس ہو تو فوری طور پر گیس کا استعمال بند کرکے متعلقہ اداروں کو اطلاع دی جائے تاکہ کسی بڑے حادثے سے بچا جا سکے۔