صنعا ایئرپورٹ پر بمباری کے بعد یمن کے تمام ہوائی اڈے بند، فضائی سرگرمیاں معطل

ہوائی اڈوں کی بندش کا فیصلہ مسافروں کی حفاظت اور فضائی حدود کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے، سرکاری اعلامیہ

July 13, 2026 · بام دنیا
فائل فوٹو

فائل فوٹو

عدن / صنعا: یمن کی سول ایوی ایشن اتھارٹی نے ملک بھر کے تمام ہوائی اڈوں کو اگلے حکم تک ہر قسم کی فضائی ٹریفک کے لیے فوری طور پر بند کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ یہ انتہائی قدم دارالحکومت صنعا کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہونے والی حالیہ بمباری کے بعد سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر اٹھایا گیا ہے۔

یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ حکومت نے پیر کے روز ایک بیان جاری کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ سرکاری افواج نے صنعا ایئرپورٹ کے رن وے کو نشانہ بنایا۔ حکومت کے مطابق اس کارروائی کا مقصد ایک ایرانی طیارے کو زبردستی لینڈنگ سے روکنا تھا۔

سرکاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ایرانی حکومت کی پشت پناہی حاصل کرنے والی حوثی ملیشیا نے یمن کے قومی طیاروں کو دارالحکومت کے ایئرپورٹ پر اترنے سے روکا اور اس بات پر اصرار کیا کہ ایرانی طیارہ یمنی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہاں لینڈ کرے۔ اسی وجہ سے حکومت کو مجبوراً ایئرپورٹ کے رن وے کو نشانہ بنانا پڑا۔

اس کارروائی کے بعد یمن کے فضائی نظام میں شدید بحران پیدا ہو گیا ہے اور ملک کا بیرونی دنیا سے فضائی رابطہ عارضی طور پر منقطع ہو چکا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ہوائی اڈوں کی بندش کا فیصلہ مسافروں کی حفاظت اور فضائی حدود کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔ متبادل انتظامات اور ایئرپورٹس کی بحالی کے حوالے سے تاحال کوئی حتمی وقت سامنے نہیں آیا۔