ڈاکٹر آکاش قتل کیس کی تفتیش میں اہم پیشرفت،ٹیچر سمیت 3ملزم گرفتار
سی سی ٹی وی فوٹیج، ڈیجیٹل شواہد اور تکنیکی تفتیش سے پولیس کو بڑی کامیابی، اسلحہ،
ڈاکٹر آکاش قتل کیس کی تفتیش میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے، جہاں پولیس نے جدید ٹیکنالوجی اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے ٹیچر سمیت تین ملزمان کو گرفتار کر لیا۔
ڈی آئی جی ساؤتھ نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ڈکیتی کے دوران قتل کے اس مقدمے کی تفتیش اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم نے کی۔ واقعے کے بعد کمانڈ اینڈ کنٹرول، سیف سٹی اور نجی کیمروں کی 100 سے زائد سی سی ٹی وی فوٹیجز کا جائزہ لیا گیا، جس کے نتیجے میں پہلے ایک ٹیچر کی شناخت ہوئی اور پھر اس کے دیگر ساتھیوں کا سراغ ملا۔
انہوں نے بتایا کہ واردات میں دو موٹر سائیکلوں اور ایک کار کا استعمال کیا گیا۔ پولیس نے ڈیفنس کے علاقے میں مشتبہ گاڑی کو روک کر تینوں ملزمان کو گرفتار کیا۔ ملزمان کے قبضے سے نقدی، موبائل فون اور واردات میں استعمال ہونے والا اسلحہ بھی برآمد کر لیا گیا ہے۔
ڈی آئی جی کے مطابق گرفتار ملزمان پہلے بھی ڈکیتی کی وارداتوں میں ملوث رہے ہیں، جن میں ایک اشتہاری ملزم بھی شامل ہے، جبکہ دیگر کو بھی ماضی میں گرفتار کیا جا چکا ہے۔ مزید ملوث افراد کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ملزمان تک رسائی سی سی ٹی وی فوٹیج اور ڈیجیٹل شواہد کی مدد سے ممکن ہوئی۔ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ واردات کے وقت چار ملزمان موٹر سائیکلوں پر جبکہ ایک ملزم کار میں بیک اپ کے طور پر موجود تھا۔ بوٹ بیسن کے علاقے میں، جہاں سے رقم نکالی گئی، وہاں بھی ملزمان کی موجودگی کے شواہد ملے ہیں۔
ڈی آئی جی سی آئی اے نے بتایا کہ رواں سال کراچی میں ڈکیتی کے دوران قتل کے 85 فیصد مقدمات حل کیے جا چکے ہیں، جبکہ ساؤتھ زون میں اس نوعیت کا یہ پہلا واقعہ تھا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ گرفتار تینوں ملزمان کا تعلق اندرون سندھ سے ہے، وہ قائد آباد میں رہائش پذیر تھے اور ان کا تعلق ہندو برادری سے ہے۔