بھارت کے سب سے بڑے ایٹمی پلانٹ کا حساس ڈیٹا چوری
منصوبے سے متعلق ہزاروں فائلیں حاصل کر کے ان میں سے بعض کو آن لائن جاری کر دیا ہے۔
بھارت کے سب سے بڑے جوہری بجلی گھر کوڈن کولم سے متعلق حساس معلومات مبینہ طور پر ڈارک ویب پر سامنے آنے کے بعد ملک کی سائبر سیکیورٹی پر نئے سوالات اٹھ گئے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ایک رینسم ویئر گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے منصوبے سے متعلق ہزاروں فائلیں حاصل کر کے ان میں سے بعض کو آن لائن جاری کر دیا ہے۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے مطابق مبینہ طور پر افشا ہونے والے ریکارڈ میں پلانٹ کی مختلف تنصیبات کے نقشے، سپلائرز کی معلومات، معائنہ رپورٹس، اجلاسوں کی تفصیلات، تکنیکی دستاویزات اور دیگر انتظامی ریکارڈ شامل ہیں۔
پلانٹ کے منصوبے سے وابستہ ریلائنس گروپ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایک تھرڈ پارٹی ڈیٹا سروس فراہم کرنے والی کمپنی کے سرور پر سیکیورٹی خلاف ورزی کا واقعہ پیش آیا تھا۔ تاہم کمپنی نے یہ واضح نہیں کیا کہ کون سا ڈیٹا متاثر ہوا یا کتنی معلومات تک رسائی حاصل کی گئی۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایسی حساس معلومات غلط ہاتھوں میں چلی جائیں تو اہم تنصیبات کی سیکیورٹی، سپلائی چین اور آپریشنل نظام سے متعلق معلومات کے غلط استعمال کا خطرہ پیدا ہو سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق افشا شدہ دستاویزات کا تعلق جوہری ری ایکٹر کے بنیادی نظام سے نہیں بلکہ تعمیراتی اور معاون تنصیبات، وینٹیلیشن، کولنگ سسٹمز اور کنٹرول روم سے متعلق بعض تکنیکی معلومات سے ہے۔
متعلقہ ڈیٹا سروس کمپنی نے بتایا کہ مئی میں مشکوک سرگرمی سامنے آنے پر فوری حفاظتی اقدامات کیے گئے تھے، جبکہ بعد ازاں مبینہ ڈیٹا لیک کے دعووں کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا اور متعلقہ اداروں کے ساتھ تعاون جاری ہے۔
دوسری جانب بھارتی سرکاری اداروں کی جانب سے اس معاملے پر محدود ردعمل سامنے آیا ہے، جبکہ ہیکنگ کے دعوے کرنے والے گروپ کے مؤقف کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اہم قومی تنصیبات کی سائبر سیکیورٹی کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب دنیا بھر میں اہم انفراسٹرکچر پر سائبر حملوں کے خطرات میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔