آزادکشمیر میں 6گھنٹے مذاکرات کے بعد بریک تھرو ۔لانگ مارچ ملتوی
21جولائی تک مطالبات منظور کرنے کی شرط
آزادکشمیر میں ایکشن کمیٹی کے ساتھ حکومتی ٹیم کے طویل مذاکرات کے بعد لانگ مارچ ملتوی کرنے کا باضابطہ اعلان کر دیاگیا ہے۔باخبر ذرائع کا دعویٰ ہے کہ 21 جولائی تک مطالبات منظور نہ ہونے کی صورت میں 22 جولائی کو دوبارہ مارچ کرنے کا الٹی میٹم دیاگیا ہے۔
ذرائع کے مطابق لانگ مارچ مؤخر کرنے کے لیے تمام مقدمات ختم کرنے، کالعدم قرار دینے کا فیصلہ واپس لینے اور 27 جولائی کے الیکشن موخر کرنے کی شرائط رکھی گئی ہیں۔ایکشن کمیٹی کی جانب سے یہ شرط بھی رکھی گئی کہ کور ممبران تمام قافلے راولاکوٹ پہنچنے پر دھرنا ختم کرنے کا اعلان کریں گے.
قبل ازیں ،پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی نگرانی میں آزاد کشمیر کی کالعدم ایکشن کمیٹی کے ساتھ مذاکرات میں بریک تھرو کی اطلاعات آئی تھیں۔
سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کی قیادت میں حکومتی وفد بدھ کی صبح ہیلی کاپٹر کے ذریعے مظفرآباد سے راولاکوٹ پہنچا اور ایکشن کمیٹی کے نمائندوں سے مذاکرات کئے۔مذاکرات تقریباً چھ گھنٹے جاری رہے۔
بلاول بھٹو زرداری مظفرآباد میں رہ کر مذاکراتی عمل کی نگرانی کرتے رہے۔اس دوران وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل ممتاز راٹھور کا یہ بیان سامنے آیا کہ ریاست امن کا گہوارہ ہے کب تک اس امن کو اپنے ہی خون سے داغدار ہوتا دیکھتے رہیں گے۔ یہ سلسلہ یہیں رک جانا چاہیے۔
ذرائع کا کہناہے کہ ایکشن کمیٹی نے لانگ مارچ موخر کرنے پر اتفاق کرلیا ہے۔ فریقین کے درمیان مذاکرات مثبت انداز میں مکمل ہوئے ۔