ایران پر زمینی حملے کی امریکی نائب صدر نے مخالفت کردی- اسرائیل پر شرارت کاالزام
ایران کے ساتھ مذاکرات کی مخالفت کرنے والوں کے پاس مسلسل بمباری کے علاوہ کوئی مؤثر اور حقیقت پسندانہ منصوبہ موجود نہیں۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ امریکا ایران میں حکومت کی تبدیلی کے مقصد کے لیے اپنی زمینی فوج نہیں بھیجے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ واشنگٹن ایران کے معاملے کو حل کرنے کے لیے عسکری دباؤ اور سفارت کاری دونوں ذرائع استعمال کر رہا ہے۔
ایک انٹرویو میں جے ڈی وینس نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے خلاف فوجی طاقت کو محدود اور مؤثر انداز میں استعمال کر رہے ہیں، جبکہ امریکا کے مقاصد میں ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا اور آبنائے ہرمز کے ذریعے توانائی کی ترسیل کو یقینی بنانا شامل ہے۔
امریکی نائب صدر نے دعویٰ کیا کہ اسرائیلی حکومت کے بعض عناصر ایران کے ساتھ مذاکرات کو متاثر کرنے اور فوجی کارروائی کو طویل کرنے کے خواہاں ہیں۔ تاہم انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ ٹرمپ نے اسرائیلی دباؤ پر ایران کے خلاف پالیسی اختیار کی۔
جے ڈی وینس کے مطابق امریکا اس وقت ایران کے ساتھ ایک حساس سفارتی مرحلے میں ہے، خاص طور پر آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں سے متعلق کشیدگی کے بعد صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔
دوسری جانب امریکا نے ایران کو اسلحہ حاصل کرنے میں مدد دینے والے مبینہ بین الاقوامی نیٹ ورک سے تعلق رکھنے والے افراد اور اداروں پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق پابندیوں کا ہدف ایران، روس اور نائیجیریا میں موجود بعض ادارے اور ایرانی و روسی شہری ہیں۔
یہ پیش رفت امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے ایران کے خلاف نئی فضائی کارروائیوں کے بعد سامنے آئی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق ان حملوں کا مقصد ایران کی ان فوجی صلاحیتوں کو کمزور کرنا ہے جنہیں آبنائے ہرمز میں کارروائیوں کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔