آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے میں دو آئل ٹینکروں میں دھماکے ہوئے،پاسدارانِ انقلاب

امریکہ نے ان جہازوں کو یہی راستہ اختیار کرنے پر آمادہ کیا، جس کے نتیجے میں یہ واقعہ پیش آیا۔ تاہم اس دعوے کے حق میں کوئی شواہد پیش نہیں کیے گئے۔

July 20, 2026 · بام دنیا

 تہران: ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے میں دو آئل ٹینکروں میں دھماکے ہوئے، جس کے بعد دونوں جہاز اپنا سفر جاری نہ رکھ سکے۔ اس دعوے کے بعد خطے میں بحری سلامتی سے متعلق خدشات ایک بار پھر شدت اختیار کر گئے ہیں۔

پاسدارانِ انقلاب کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ آئل ٹینکرز ایک ایسے سمندری راستے سے گزر رہے تھے جسے ایران غیر محفوظ قرار دیتا ہے۔ بیان میں الزام عائد کیا گیا کہ امریکہ نے ان جہازوں کو یہی راستہ اختیار کرنے پر آمادہ کیا، جس کے نتیجے میں یہ واقعہ پیش آیا۔ تاہم اس دعوے کے حق میں کوئی شواہد پیش نہیں کیے گئے۔

ایرانی فورسز نے اپنے بیان میں خبردار کیا کہ جب تک خطے میں امریکی فوجی سرگرمیاں جاری رہیں گی، آبنائے ہرمز کے راستے تیل، گیس اور دیگر تجارتی سامان کی محفوظ ترسیل ممکن نہیں ہوگی۔

ادھر عمان کی حکومت نے قبل ازیں بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن کے تعاون سے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کے لیے ایک عارضی بحری راہداری قائم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم ایران نے اس انتظام پر اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے نزدیک تمام بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے سے قبل ایرانی حکام سے رابطہ کرنا اور ان کی جانب سے مقرر کردہ راستہ اختیار کرنا چاہیے۔

دوسری جانب برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز نے بتایا کہ عمان کے ساحل کے قریب بندرگاہ کمزار سے تقریباً آٹھ سمندری میل کے فاصلے پر ایک تجارتی جہاز میں آگ لگنے کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔ واقعے کی وجوہات اور ممکنہ نقصان کے بارے میں تاحال مزید تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔

دھماکوں اور جہاز میں آگ لگنے کے ان واقعات کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی، جبکہ متعلقہ حکام کی جانب سے مزید معلومات کا انتظار کیا جا رہا ہے۔