سرکاری یونیورسٹی میں مرد رجسٹرار کو ہراساں کرنے پرخاتون افسرکی تنزلی برقرار

وفاقی محتسب نے اپیل مسترد، ہراسیت قانون کی تشریح بھی واضح کردی

July 20, 2026 · کائنات کے رنگ

قانون صرف جنسی نوعیت کے واقعات تک محدود نہیں بلکہ دباؤ اور خوف کا ماحول پیدا کرنا بھی ہراسیت کے زمرے میں آتا ہے، وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسیت/ فائل فوٹو

 

وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسیت نے سرکاری یونیورسٹی کے مرد رجسٹرار کو مبینہ طور پر ہراساں اور بلیک میل کرنے کے کیس میں خاتون افسر کی تنزلی کی سزا برقرار رکھتے ہوئے قرار دیا ہے کہ ہراسیت کا قانون صرف جنسی نوعیت کے واقعات تک محدود نہیں بلکہ دباؤ اور خوف کا ماحول پیدا کرنا بھی ہراسیت کے زمرے میں آتا ہے۔

 

وفاقی محتسب نے فیصلے میں کہا کہ خاتون افسر نے رجسٹرار کے ساتھ سیلفی لینے کی خواہش ظاہر کی اور بعد ازاں مبینہ طور پر ویڈیوز جاری کرنے اور ہراسیت کی شکایت درج کرانے کی دھمکیاں دیں، جبکہ خاتون افسر پر مرد رجسٹرار کو ہراساں کرنے کا الزام ثابت ہوا۔

 

فیصلے کے مطابق مطلوبہ تقرری رجسٹرار کے اختیار میں نہیں تھی، جس پر خاتون افسر کا رویہ تبدیل ہوگیا۔ رجسٹرار نے صورتحال کے پیش نظر ایک اہلکار کو اپنے کمرے میں موجود رکھا، تاہم خاتون بار بار اس اہلکار کو باہر بھیجنے پر اصرار کرتی رہیں۔ خطرہ محسوس ہونے پر رجسٹرار نے گفتگو خفیہ طور پر ریکارڈ کرلی اور بعد ازاں خود کو غیر محفوظ محسوس کرتے ہوئے ڈپٹی رجسٹرار کے دفتر چلے گئے۔

 

وفاقی محتسب کے مطابق ریکارڈنگ سنائے جانے پر خاتون افسر نے اپنی غلطی تسلیم کی اور دو مرتبہ معذرت نامے بھی جمع کرائے، تاہم یونیورسٹی کی انکوائری کمیٹی نے انہیں قصوروار قرار دیتے ہوئے تنزلی، 3 سال تک ترقی پر پابندی اور انتظامی عہدے پر تقرری سے محرومی کی سزا سنائی، جس کے بعد خاتون افسر نے اس سزا کے خلاف وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسیت میں اپیل دائر کی۔

 

وفاقی محتسب برائے انسداد ہراسیت نے خاتون افسر کی ترقی اور انتظامی تقرری پر عائد تاحیات پابندیاں ختم کردیں، تاہم تنزلی کی بنیادی سزا برقرار رکھی۔