ایران کشیدگی کے اثرات، امریکا کے تیل ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے

سٹریٹیجک پٹرولیم ریزرو بھی 18 جولائی تک کم ہو کر تقریباً 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو 1983 کے بعد کم ترین سطح قرار دیا جا رہا ہے۔

July 21, 2026 · بام دنیا

امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے بعد امریکی خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جو تقریباً چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار ہو رہی ہے۔

رپورٹس کے مطابق بینک آف امریکا کے اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ امریکا کے پاس موجود تیل کی سپلائی تقریباً 43 دن تک محدود رہ گئی ہے، جو جولائی 1983 کے بعد کم ترین سطح ہے۔

امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق کمرشل خام تیل کے ذخائر بھی دباؤ کا شکار ہیں۔ 10 جولائی تک امریکا میں کمرشل خام تیل کے ذخائر تقریباً 409.7 ملین بیرل ریکارڈ کیے گئے، جو پانچ سالہ اوسط سے تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق سٹریٹیجک پٹرولیم ریزرو بھی 18 جولائی تک کم ہو کر تقریباً 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو 1983 کے بعد کم ترین سطح قرار دیا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق توانائی کے ذخائر میں کمی عالمی مارکیٹ، تیل کی قیمتوں اور امریکا کی توانائی سکیورٹی پر اثر انداز ہو سکتی ہے، جبکہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر عالمی منڈیوں کی نظریں مرکوز ہیں۔