پاکستانی جہازوں کو خطرہ ہوا تو حقِ دفاع استعمال کریں گے،پاکستان کا حوثی ملیشیا کو انتباہ

تجارتی جہاز رانی کو نقصان پہنچانے والی سرگرمیاں عالمی تجارت کے تسلسل، جہاز رانی کی آزادی اور بین الاقوامی بحری نظام کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں

July 22, 2026 · اہم خبریں

 اسلام آباد: پاکستان نے حوثی ملیشیا کو خبردار کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں یا ملک کے بحری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحانہ اقدام کو قومی سلامتی اور خود مختار مفادات کے لیے سنگین خطرہ سمجھا جائے گا۔

دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی بحری تنصیبات اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے حق دفاع استعمال کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔

بیان میں حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی عرب اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی سے متعلق دھمکیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ ایسے اقدامات علاقائی امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔

دفتر خارجہ کے مطابق تجارتی جہاز رانی کو نقصان پہنچانے والی سرگرمیاں عالمی تجارت کے تسلسل، جہاز رانی کی آزادی اور بین الاقوامی بحری نظام کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔

پاکستان نے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ قانونی تجارتی سرگرمیوں میں مصروف جہازوں کو دھمکیاں دینا ناقابل قبول ہے اور یہ بین الاقوامی قانون کے اصولوں کے خلاف ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ پاکستان کو ان اطلاعات پر تشویش ہے جن کے مطابق سعودی عرب کے ساتھ تجارت کرنے والے بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ بھی کیا۔

دفتر خارجہ نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قانون کا احترام کریں اور بحیرہ احمر سمیت عالمی بحری راستوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔

واضح رہے کہ یمن کے حوثی گروہ نے سعودی عرب کی جانب مبینہ اقدامات کے جواب میں سعودی بحری جہازوں کے خلاف کارروائی کا اعلان کیا ہے۔ حوثی حکام کے مطابق یہ اقدام بحیرہ احمر کے جنوبی حصے میں واقع آبنائے باب المندب سے متعلق ہے، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔