جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل امیرالعظیم سپردِ خاک،منصورہ میں نمازِ جنازہ ادا
سیاسی، مذہبی، سماجی، صحافتی اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد نے شرکت کی۔
لاہور: جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل امیرالعظیم کی نمازِ جنازہ جمعرات کو جماعت اسلامی کے مرکز منصورہ لاہور میں ادا کر دی گئی، جس میں سیاسی، مذہبی، سماجی، صحافتی اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد نے شرکت کی۔
نمازِ جنازہ کی امامت امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمٰن نے کرائی۔ اس موقع پر انہوں نے مرحوم کی دینی، ملی اور تنظیمی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ امیرالعظیم نے اپنی پوری زندگی اقامتِ دین، اسلامی نظام کے قیام اور جماعت اسلامی کی مضبوطی کے لیے وقف کیے رکھی۔ ان کا کہنا تھا کہ مرحوم بہترین اخلاق، سادگی، کارکنوں سے محبت اور تنظیمی صلاحیتوں کے باعث ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔
حافظ نعیم الرحمٰن نے کہا کہ امیرالعظیم نے کینسر جیسے موذی مرض کا انتہائی صبر اور استقامت سے مقابلہ کیا اور بیماری کے باوجود آخری وقت تک جماعت اسلامی کی تنظیمی ذمہ داریاں پوری لگن سے انجام دیتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ امیرالعظیم کارکنوں کے لیے عملی نمونہ تھے اور ان کی جدوجہد نئی نسل کے لیے مشعلِ راہ رہے گی۔
نمازِ جنازہ میں وفاقی وزیر احسن اقبال، سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری، سابق وفاقی وزیر محمد علی درانی، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما مولانا امجد خان، جمعیت اہلحدیث کے سربراہ ابتسام الٰہی ظہیر، جماعت اسلامی کے نائب امراء، صوبائی امراء، مختلف سیاسی و مذہبی جماعتوں کے رہنما، وکلاء، صحافی، اساتذہ، تاجروں، کسانوں، مزدور تنظیموں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں سمیت بڑی تعداد میں افراد شریک ہوئے۔ اقلیتی برادری کے نمائندوں نے بھی نمازِ جنازہ میں شرکت کر کے اظہارِ تعزیت کیا۔
اس موقع پر جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ نے مرحوم کے ساتھ اپنی نصف صدی سے زائد تحریکی رفاقت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امیرالعظیم نے ہر ذمہ داری انتہائی دیانت داری، اخلاص اور ثابت قدمی سے نبھائی۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم کی تنظیمی خدمات جماعت اسلامی کی تاریخ کا اہم باب ہیں۔
امیرالعظیم بدھ کی شب کینسر کے باعث انتقال کر گئے تھے۔ وہ گزشتہ کچھ عرصے سے زیر علاج تھے، تاہم بیماری کے باوجود جماعت اسلامی کی سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کرتے رہے۔
امیرالعظیم 1958ء میں لاہور میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے ایم بی اے کیا اور طالب علمی کے زمانے میں اسلامی جمعیت طلبہ سے اپنی تحریکی زندگی کا آغاز کیا۔ وہ اسلامی جمعیت طلبہ لاہور کے ناظم، بعد ازاں پاکستان کے ناظمِ اعلیٰ منتخب ہوئے۔ جنرل ضیاء الحق کے دور میں طلبہ یونین کی بحالی کی تحریک میں سرگرم کردار ادا کیا اور اس دوران قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کیں۔
بعد ازاں انہوں نے جماعت اسلامی میں مختلف اہم تنظیمی ذمہ داریاں سنبھالیں، جن میں امیر جماعت اسلامی لاہور، امیر وسطی پنجاب، مرکزی سیکرٹری اطلاعات اور دو مرتبہ جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل شامل ہیں۔ وہ عدلیہ بحالی تحریک سمیت مختلف جمہوری اور آئینی جدوجہد میں بھی سرگرم رہے اور اپنی شائستگی، اعتدال پسندانہ طرز سیاست اور تنظیمی صلاحیتوں کے باعث سیاسی و سماجی حلقوں میں احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز، مولانا فضل الرحمان، عوامی نیشنل پارٹی کے صدر ایمل ولی خان، جمعیت علمائے پاکستان، تحریک تحفظ آئین پاکستان، جماعت اسلامی بنگلہ دیش، مرکزی علماء کونسل پاکستان اور دیگر سیاسی و مذہبی رہنماؤں نے امیرالعظیم کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان کی دینی، قومی اور سیاسی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
تعزیتی پیغامات میں مرحوم کو ایک باوقار، مدبر، باکردار اور نظریاتی رہنما قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی، جبکہ اللہ تعالیٰ سے ان کی مغفرت، درجات کی بلندی اور اہل خانہ کے لیے صبر جمیل کی دعا بھی کی گئی۔