چین کی سفارتی کوششوں سے عالمی منڈی میں خام تیل سستا ہوگیا
سرمایہ کاروں نے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں ممکنہ کمی کی توقع پر خام تیل کی خریداری میں احتیاط برتی
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کی ایک بڑی وجہ چین کی جانب سے امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی رابطوں کو دوبارہ فعال بنانے کی کوششوں کو قرار دیا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق سرمایہ کاروں نے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں ممکنہ کمی کی توقع پر خام تیل کی خریداری میں احتیاط برتی، جس کے نتیجے میں برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 3.9 فیصد کمی کے بعد 96.78 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئی، جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 3.1 فیصد کمی کے ساتھ 89.31 ڈالر فی بیرل تک آ گیا۔ تاہم ہفتہ وار بنیاد پر دونوں بینچ مارکس اب بھی اضافے کی جانب گامزن ہیں۔
حالیہ دنوں امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی، آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیوں میں کمی اور بحیرۂ احمر میں جہاز رانی کو لاحق خطرات کے باعث تیل کی قیمتوں میں تیزی دیکھی گئی تھی، لیکن چین کی سفارتی سرگرمیوں کی خبروں نے عالمی منڈی میں کچھ حد تک اطمینان پیدا کیا ہے۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی آئل ٹینکروں پر حملوں کے بعد ایران اور اس کے حمایت یافتہ حوثی گروپ کے خلاف سخت کارروائی کا عندیہ دیا ہے، جبکہ بعض رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران حوثیوں پر باب المندب کی بحری گزرگاہ سے متعلق دباؤ بڑھا رہا ہے۔
بحری آمدورفت پر نظر رکھنے والے اداروں کے مطابق آبنائے ہرمز سے تیل بردار جہازوں کی نقل و حرکت محدود پیمانے پر جاری ہے، جبکہ باب المندب میں بحری ٹریفک کی صورتحال میں گزشتہ روز کے مقابلے میں کچھ بہتری دیکھی گئی ہے۔
دوسری جانب مالیاتی ادارے جے پی مورگن کے تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر عالمی تیل کی سپلائی طویل عرصے تک متاثر رہی تو برینٹ خام تیل کی اوسط قیمت 114 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
علاوہ ازیں روس نے یوکرین کی بندرگاہی تنصیبات پر حملوں کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ قازقستان نے بھی برآمدی ٹرمینل میں رکاوٹوں کے باعث تیل کی پیداوار میں عارضی کمی کی تصدیق کی ہے، جس سے عالمی توانائی مارکیٹ کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔