مفتاح اسماعیل نے پیٹرول کی قیمتوں سے متعلق بڑا دعویٰ کر دیا
تقریباً 60 فیصد پیٹرول موٹر سائیکل سوار استعمال کرتے ہیں، جبکہ ان سے فی لیٹر تقریباً 120 روپے ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے
عوام پاکستان پارٹی کے سیکریٹری جنرل اور سابق وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ ملک میں پیٹرول کی قیمت کا بڑا حصہ ٹیکسوں اور کمپنیوں کے منافع پر مشتمل ہے، جبکہ کراچی بندرگاہ تک پہنچنے کے بعد ایک لیٹر پیٹرول کی لاگت تقریباً 220 روپے بنتی ہے۔
ایک انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل نے کہا کہ کراچی پورٹ پر ڈیوٹی سمیت ایک لیٹر پیٹرول کی قیمت تقریباً 220 روپے ہوتی ہے، جبکہ اس کے بعد وصول کیے جانے والے مختلف ٹیکسز، لیوی اور آئل کمپنیوں کے منافع صارفین سے وصول کیے جاتے ہیں۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت آئل کمپنیوں کے منافع پر سمجھوتہ نہیں کرتی اور ہمیشہ ان کے مفادات کا تحفظ کرتی ہے، لیکن عام صارفین کو ریلیف دینے کے معاملے پر مختلف وجوہات پیش کی جاتی ہیں۔
مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ اگر موٹر سائیکل سواروں کو پیٹرول پر فی لیٹر 10 روپے کا ریلیف دینے کی بات کی جائے تو فوری طور پر آئی ایم ایف کا معاملہ سامنے آ جاتا ہے، حالانکہ ملک میں پیٹرول استعمال کرنے والوں کی بڑی تعداد موٹر سائیکل سواروں پر مشتمل ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان کے مطابق تقریباً 60 فیصد پیٹرول موٹر سائیکل سوار استعمال کرتے ہیں، جبکہ ان سے فی لیٹر تقریباً 120 روپے ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ غریب طبقے پر زیادہ ٹیکسوں کا بوجھ ڈالنے سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔
سابق وزیر خزانہ نے پیٹرولیم قیمتوں کے ڈی ریگولیشن کے عمل پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت واقعی اس نظام میں تبدیلی لانا چاہتی تو یہ فیصلہ ایک ہفتے یا 15 دن کے اندر بھی کیا جا سکتا تھا، تاہم اب تک اس کے عملی نتائج نظر نہیں آئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ سال حکومت کفایت شعاری کی بات کرتی رہی، لیکن سرکاری اخراجات بجٹ سے تقریباً 50 ارب روپے زیادہ رہے۔