پنجاب میں مون سون بارشوں سے 29 افراد جاں بحق، 203 زخمی ہوئے،پی ڈی ایم اے

زیادہ تر اموات کچے اور خستہ حال مکانات منہدم ہونے، آسمانی بجلی گرنے اور کرنٹ لگنے کے واقعات کے نتیجے میں ہوئیں

July 26, 2026 · قومی

لاہور: پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے مون سون بارشوں سے ہونے والے جانی و مالی نقصانات کی تازہ رپورٹ جاری کر دی، جس کے مطابق رواں مون سون سیزن کے دوران مختلف حادثات میں 29 افراد جاں بحق جبکہ 203 زخمی ہوئے ہیں۔

پی ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق زیادہ تر اموات کچے اور خستہ حال مکانات منہدم ہونے، آسمانی بجلی گرنے اور کرنٹ لگنے کے واقعات کے نتیجے میں ہوئیں۔ بارشوں کے باعث صوبے بھر میں 52 مکانات کو جزوی نقصان پہنچا، جبکہ 6 مویشی بھی ہلاک ہوئے۔

ترجمان پی ڈی ایم اے نے بتایا کہ مون سون کے تیسرے اسپیل کے پیش نظر تمام ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔ حکام کے مطابق شدید بارشوں کے باعث شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ اور پہاڑی و نشیبی علاقوں میں فلیش فلڈنگ کا خدشہ برقرار ہے۔

ڈی جی پی ڈی ایم اے عمر عباس میلہ نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایات کے مطابق زخمی افراد کو بہترین طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، جبکہ حکومت پنجاب کی پالیسی کے تحت جاں بحق افراد کے لواحقین کو 10 لاکھ سے 50 لاکھ روپے تک مالی امداد دی جا رہی ہے۔

انہوں نے تمام ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی کہ دریاؤں، ندی نالوں اور سیلابی مقامات کے اطراف دفعہ 144 پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے تاکہ شہریوں کو ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھا جا سکے۔

پی ڈی ایم اے نے شہریوں سے بھی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ خستہ حال اور کچے مکانات میں رہائش سے گریز کیا جائے، بچوں کو بجلی کے کھمبوں، لٹکتی تاروں، برساتی نالوں اور نشیبی علاقوں سے دور رکھا جائے، جبکہ خراب موسم کے دوران غیر ضروری سفر سے بھی اجتناب کیا جائے۔

حکام کا کہنا ہے کہ احتیاطی تدابیر پر عمل کر کے جانی و مالی نقصانات میں نمایاں حد تک کمی لائی جا سکتی ہے، اس لیے شہری موسمی صورتحال سے متعلق سرکاری ہدایات پر عمل کریں۔