امریکی ہتھیاروں کامسلسل سکڑتا ذخیرہ شمالی کوریا،روس ،چین جیسے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ناکافی
یہ موضوع ٹرمپ انتظامیہ کے اندر کچھ عرصے سے ایک حساس مسئلہ رہا ہے۔برطانوی میڈیا
ایران پر حملوں میں حالیہ وقفے کی وجہ امریکہ کے پاس ہتھیار ختم ہونے کا اندیشہ ہے۔برطانوی نشریاتی ادارےنے نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کاحوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ کو تنازع مزید بڑھانے کے منصوبوں کو مؤخر کرنے کا مشورہ دیا گیا تھا کیونکہ اس سے امریکی ذخائر مزید کم ہو جاتے۔
برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق جدید اور مشکل سے تیار ہونے والے ہتھیاروں کا وسیع پیمانے پر استعمال ایک ایسا معاملہ ہے جس کا عام طورپر ذکر نہیں کیا گیا جو’’آپریشن ایپک فیوری‘‘کے دوران ایران میں تقریباً 40 دنوں کی شدید جنگی کارروائیوں اور اس کے بعد سے جوابی حملوں میں استعمال ہوئے۔ اب تک، امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ اس جنگ پر 37اعشاریہ 5 ارب ڈالر (28 ارب پاؤنڈ) کی لاگت آئی ہے، اور اس کا بڑا حصہ گولہ بارود پر خرچ ہوا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق، 8 اپریل کو ایک عارضی جنگ بندی کے نافذ ہونے تک، امریکی افواج نے ایران بھر میں 13ہزارسے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا تھا۔ اسی مدت کے دوران امریکی فضائی دفاع نے ایران کے1700سے زیادہ ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کیا۔
پیر کے روز، ٹرمپ نے ہتھیاروں کی کمی کی تردید کرتے ہوئے وال اسٹریٹ جرنل کو بتایاکہ ہمارے پاس دنیا کے کسی بھی ملک سے کہیں زیادہ گولہ بارود ہے، اور ہماری ضرورت سے کہیں زیادہ ہے۔
یہ موضوع امریکی انتظامیہ کے اندر کچھ عرصے سے ایک حساس مسئلہ رہا ہے۔ گزشتہ ماہ جب اس معاملے پر دباؤ ڈالا گیا تو ہیگستھ نے اس بات کی تردید کی تھی کہ سپلائی کم ہو رہی ہے۔لیکن ایسا لگتا ہے کہ اس کے بعد سے ان کا موقف بدل گیا ہے۔ گزشتہ ہفتے، انہوں نے سینیٹ کی ایپروپریشنز کمیٹی کو بتایا کہ پینٹاگون کو آلات سمیت ’’شدید کمی‘‘پورا کرنے کے لیے مزید 87 ارب ڈالر(68 ارب پاؤنڈ) کی ضرورت ہے۔
اس مسئلے پر تحقیق کرنے والے ریٹائرڈ میرین کور کے کرنل اور واشنگٹن ڈی سی میں قائم سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز CSIS کے سینئر ایڈوائزر مارک کینسیان کہتے ہیں کہ یہ گولہ بارود پر منحصر ہے لیکن ایک واحد میزائل بنانے کے لیے ایک سے پانچ سال کا وقت لگتا ہے،اور آپ اس عمل کو تیز کرنے کے لیے کچھ نہیں کر سکتے۔
سی ایس آئی ایس کا تخمینہ ہے کہ جنگ کے دوران1ہزارسے زیادہ ٹوما ہاکس فائر کیے گئے ہیں، اور ہو سکتا ہے کہ یہ ذخیرہ 2031 تک جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس نہ آ سکے۔ ان کی جگہ نئے میزائل لانا مشکل ہو گا۔ کرنل کینسیان کا کہناہے کہ ایک میزائل تیار کرنے میں کئی سال لگتے ہیں۔ اگر آپ آج اس سسٹم میں پیسہ لگاتے ہیں، تو آپ کو تین یا چار سال تک میزائل نہیں ملے گا۔ بعض اوقات پانچ سال بھی لگ جاتے ہیں۔اب ہمیں جو میزائل مل رہے ہیں ،ان کے لیے فنڈز 2023 میں فراہم کیے گئے تھے۔
جنگ سے پہلے کے تخمینے کے مطابق،جنگ کے دوران تقریباً2ہزار330کے ذخیرے میں سے1ہزار430پیٹریاٹ میزائل استعمال ہوئے۔ایک نیا اور زیادہ جدید نظام بھی استعمال کیا گیا جسے ٹرمینل ہائی الٹی ٹیوڈ ایریا ڈیفنس یا تھاڈ (THAAD) کہا جاتا ہے، جس کی رینج پرانے پیٹریاٹ کے مقابلے میں زیادہ لمبی ہے اور یہ زیادہ بلندی پر ہدف کو روکتا ہے۔ اس کی سپلائی پہلے ہی محدود تھی۔ 360 کے اسٹاک میں سے 190 اور 290 کے درمیان تھاڈ میزائل فائر کیے گئے۔
دنیا میں صرف نو تھاڈ بیٹریاں فعال ہیں،جن میں سے سات امریکی ہیں ۔ مسلسل اخراج امریکی افواج کو ایک ایسے نظام سے محروم کر سکتا ہے جو روس،چین یا شمالی کوریا جیسے ملکوں سے لاحق خطرات سے بچنے کے لیے انتہائی اہم ہوگا۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان انا کیلی نے ایک بیان میں کہا کہ امریکی فوج کے پاس صدر ٹرمپ کے تمام اسٹریٹجک اہداف اور اس سے آگے کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کافی سے زیادہ گولہ بارود اور ذخائر موجود ہیں، اور آپریشن ایپک فیوری نے یہ واضح کر دیا ہے کہ جب آپ امریکہ سے الجھتے ہیں تو کیا ہوتا ہے۔انہوں نے مزید کہا، اس کے باوجود، صدر نے ہمارے دفاعی ٹھیکیداروں پر زور دیا ہے کہ وہ مستقل طور پر مزید ہتھیار تیار کریں۔
یونائیٹڈ اگینسٹ نیوکلیئر ایران کے پالیسی ڈائریکٹر جیسن بروڈسکی کا کہناہے کہ،ایرانی ہدف پر فائر کیا جانے والا، یوکرین کے فرنٹ لائنز پر بھیجا جانے والا یا تائیوان کے لیے بچا کر رکھا جانے والا ہر میزائل ایک ایسے ذخیرے سے آ رہا ہے جو مسلسل سکڑ رہا ہے۔ اس کے باوجود، واشنگٹن کویقین ہے کہ وہ تب تک اس لڑائی سے نکل جائے گا جب تک پیداوار اس کے برابر نہ پہنچ جائے۔