راجہ پرویزاشرف نے آزاد کشمیر میں مبینہ دھاندلی کے شواہد پیش کردیئے
الیکشن کمیشن نے 48 گھنٹے گزرنے کے باوجود کوئی نوٹس نہیں لیا، رہنما پیپلز پارٹی
فائل فوٹو
پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق وزیراعظم راجا پرویز اشرف نے آزاد کشمیر کے میرپور ڈویژن میں ہونے والے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے پاس انتخابی بے ضابطگیوں کے واضح ویڈیو شواہد موجود ہیں، تاہم الیکشن کمیشن نے 48 گھنٹے گزرنے کے باوجود کوئی نوٹس نہیں لیا۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے راجا پرویز اشرف نے کہا کہ 27 جولائی کو کوٹلی میں بھی انہوں نے میرپور انتخابات کے حقائق عوام کے سامنے رکھے تھے، مگر مسلم لیگ (ن) نے ان کی پریس کانفرنس کا تمسخر اڑایا، حالاں کہ وہ الزامات کے بجائے حقائق اور شواہد پیش کر رہے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ انتخابات میں ان کے امیدواروں کے ساتھ زیادتی ہوئی اور ووٹ جلانے سمیت متعدد بے ضابطگیوں کی ویڈیوز موجود ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پریس کانفرنس کے دوران یہ ویڈیوز پروجیکٹر پر چلائی جا رہی تھیں، تاہم فنی خرابی کے باعث سسٹم بند ہوگیا، جس کے بعد انہوں نے ویڈیوز کے بغیر ہی گفتگو جاری رکھی۔
راجا پرویز اشرف نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے امیدواروں نے چیف الیکشن کمشنر کو درخواستیں دے کر متنازع حلقوں کے نتائج روکنے اور شواہد کا جائزہ لینے کا مطالبہ کیا تھا، لیکن اب تک کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ میرپور ڈویژن کے انتخابات میں بڑے پیمانے پر دھاندلی ہوئی ہے۔