یوکرینی ڈرون حملے سے روسی صنعتی تنصیبات میں آگ لگ گئی

ریازان میں حملوں کے بعد وائلڈ بیریز کے گودام خالی کرا لیے گئے

July 29, 2026 · بام دنیا

روس کی ریٹیل کمپنی وائلڈ بیریز کے لاجسٹکس مرکز میں یوکرینی ڈرون حملے کے بعد آگ بجھانے کے لیے فائر فائٹرز کارروائی کر رہے ہیں، جبکہ دھواں بلند ہو رہا ہے۔ یہ تصویر روس کے ریازان علاقے میں 29 جولائی کی ہے۔ [ہینڈ آؤٹ/یوکرین آن لائن ٹیلی گرام چینل بذریعہ انادولو

ماسکو یوکرینی ڈرون حملوں کے بعد روس کے مغربی شہر ریازان میں صنعتی تنصیبات میں آگ بھڑک اٹھی، روسی حکام کے مطابق حملوں کے بعد معروف آن لائن ریٹیل کمپنی وائلڈ بیریز نے اپنے مقامی گودام خالی کرا لیے۔

ریازان کے گورنر پاویل مالکوو نے بتایا کہ رات گئے علاقے میں 45 ڈرونز مار گرائے گئے، گرنے والے ملبے سے ایک صنعتی علاقے میں آگ لگی۔ انہوں نے کہا کہ ایک گھر اور ایک عمارت کو بھی نقصان پہنچا، جبکہ چھ افراد زخمی ہونے کے باعث اسپتال منتقل کیے گئے۔

یوکرین کی جانب سے روسی صنعتی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے حملوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔ روسی حکام کے مطابق حالیہ دنوں میں وائلڈ بیریز کے کم از کم سات گوداموں کو نقصان پہنچا، جس سے کمپنی کی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کا تقریباً 10 فیصد متاثر ہوا اور پلیٹ فارم سے منسلک ہزاروں چھوٹے کاروباروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے کہا کہ یوکرین کے حالیہ حملوں میں ریازان کی آئل ریفائنری اور لاجسٹک مرکز سمیت روس کے زیر قبضہ کریمیا میں روسی بحیرہ اسود کے بیڑے سے متعلق ایک مقام کو نشانہ بنایا گیا۔

دوسری جانب روسی حملوں میں یوکرین کے شہر خیرسون اور دنیپروپیٹروفسک میں بھی جانی نقصان کی اطلاعات سامنے آئیں۔ یوکرینی حکام کے مطابق خیرسون میں روسی ڈرون حملے میں ایک شخص ہلاک اور تین زخمی ہوئے، جبکہ دنیپروپیٹروفسک میں حملوں کے دوران ایک بچے سمیت پانچ افراد زخمی ہوئے۔

روس کی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا کہ اس کی افواج نے یوکرین کے دو دیہات پر قبضہ کرلیا ہے اور اوڈیسا کے مشرق میں دو ایسے بحری جہازوں کو نشانہ بنایا جو ہتھیار اور فوجی سازوسامان لے جا رہے تھے۔

یوکرین اور روس نے حالیہ ہفتوں میں بحیرہ اسود اور بحیرہ ازوف میں موجود بحری تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا ہے، جس کے باعث خطے میں تیل اور اناج کی ترسیل متاثر ہوئی ہے۔

یوکرین کے قائم مقام وزیر دفاع ییوہینی خمارا نے کہا کہ روس کے خلاف جنگ میں یوکرین براہ راست طاقت کے مقابلے کے بجائے وسائل کا محتاط استعمال کرتے ہوئے غیر روایتی حکمت عملی اختیار کر رہا ہے۔

اس سے قبل زیلنسکی نے واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی، جس میں یوکرین کے لیے پیٹریاٹ میزائل انٹرسیپٹرز کی تیاری اور روس کے ساتھ امن مذاکرات کی بحالی پر بات چیت کی گئی۔