مریم نواز کا پانی بچاؤ اور امن و امان سےمتعلق اہم فیصلوں کااعلان

پنجاب میں منی ڈیمز، سیف سٹی منصوبے اور سیکیورٹی اقدامات کا جائزہ

July 29, 2026 · اہم خبریں, قومی

فائل فوٹو

لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیرِ صدارت ٹرانسفارمیشن آف ایگریکلچر، واٹر مینجمنٹ اور امن و امان سے متعلق اہم اجلاس منعقد ہوئے، جن میں پانی کی بچت، گراؤنڈ واٹر مینجمنٹ اور صوبے کی سیکیورٹی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ 

زرعی اور واٹر مینجمنٹ اجلاس میں وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے بارش کے پانی کو محفوظ بنانے کے لیے آن گراؤنڈ واٹر باڈیز کے پلان کی ہدایت کی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ صوبہ بھر میں 110 منی ڈیمز بن چکے ہیں، جبکہ پوٹھوہار کے بارانی پانی کو ذخیرہ کرنے کے لیے آئندہ 3 سال میں مزید 800 منی ڈیمز بنانے کی منظوری دے دی گئی ہے۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ 800 نئے منی ڈیمز سے 32 ہزار ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت پیدا ہوگی۔ وزیراعلیٰ نے زیرِ زمین پانی کی مینجمنٹ کے لیے موجودہ قانونی فریم ورک کو مزید فعال بنانے کی ہدایت کی۔

پانی کی بچت اور مؤثر نگرانی کے لیے خصوصی ایچ آر اسٹاف تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جبکہ محکمہ زراعت، آبپاشی، ہاؤسنگ اور لوکل گورنمنٹ کو پانی کے تحفظ کے لیے مشترکہ اقدامات کرنے کی ہدایت کی گئی۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ جاری مالی سال میں کسانوں کو 50 فیصد سبسڈی پر 1000 نئے لیزر لینڈ لیولرز فراہم کیے جائیں گے۔ بریفنگ میں کہا گیا کہ پانی کے ضیاع کو روکنے کے لیے جامع حکمت عملی تیار کرلی گئی ہے، جس کے تحت ترسیل کے دوران 30 فیصد اور استعمال میں 25 فیصد پانی کے ضیاع کو کم کرنے کے اقدامات کیے جائیں گے۔

بریفنگ کے مطابق 20 فیصد پانی کی بچت کے لیے 7000 کلومیٹر طویل 2600 واٹر کورسز کی پختگی مکمل ہوچکی ہے، جبکہ آئندہ 3 سال میں مزید 4500 واٹر کورسز کی پختگی اور اصلاح کی جائے گی۔

دوسرے اجلاس میں وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے ریپ، بچوں سے زیادتی اور بدعنوانی میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت کرتے ہوئے فول پروف پلان طلب کرلیا۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ پنجاب کے 43 اضلاع میں سیف سٹی پراجیکٹ مکمل ہوچکے ہیں، جبکہ لاہور میں مزید 2000 سے زائد نئے سیف سٹی کیمرے نصب کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ سیف سٹی منصوبے کو مزید 98 تحصیلوں اور کچے کے علاقوں تک توسیع دینے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔

وزیراعلیٰ نے سائبر کرائم سے نمٹنے کے لیے خصوصی سائبر یونٹ کے قیام اور سی ٹی ڈی میں توہینِ رسالت کی مانیٹرنگ کے لیے خصوصی سیل قائم کرنے کے فیصلے کی منظوری دی۔

مریم نواز شریف نے کہا کہ خواتین اور بچے ان کی ریڈ لائن ہیں اور خواتین و بچوں کے خلاف جرائم پر زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے گی۔

اجلاس میں موبائل پولیس اسٹیشنز کو شہریوں کی دہلیز تک پہنچانے کی ہدایت بھی کی گئی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ جو شہری تھانے نہیں آسکتا، پولیس خود اس کے گھر پہنچ کر داد رسی کرے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ ستمبر کے پہلے ہفتے تک پولیس اہلکاروں کے لیے 29 ہزار باڈی کیمرے فراہم کر دیے جائیں گے۔ مزید بتایا گیا کہ 72 ہزار سے زائد آئمہ کرام کی رجسٹریشن مکمل ہوچکی ہے جبکہ ان کے لیے 10 ارب روپے جاری کیے گئے ہیں۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ صوبے بھر سے ایک لاکھ 39 ہزار سے زائد غیر قانونی مقیم افراد کی واپسی کا عمل مکمل کیا گیا، جبکہ رواں سال کے پہلے 6 ماہ میں 5127 غیر قانونی افغان باشندے ہولڈنگ سینٹرز منتقل کیے گئے۔

وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے اور صوبے میں شہریوں کے تحفظ کے لیے اقدامات مزید مؤثر بنانے کی ہدایت کی۔