جنگ کے دوران تیل پیداوار کم ہونے کے باوجود سعودی آمدن بڑھ گئی
پہلی سہ ماہی کے 125.7 ارب ریال کے خسارے کے مقابلے میں تقریباً تین چوتھائی کم ہے۔
ریاض: سعودی عرب کے سہ ماہی بجٹ خسارے میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث آمدنی میں اضافہ ہوا ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق سعودی عرب نے جون میں ختم ہونے والی دوسری سہ ماہی کے دوران 34.3 ارب ریال (تقریباً 9.1 ارب ڈالر) کا بجٹ خسارہ ریکارڈ کیا، جو پہلی سہ ماہی کے 125.7 ارب ریال کے خسارے کے مقابلے میں تقریباً تین چوتھائی کم ہے۔
رپورٹ کے مطابق دوسری سہ ماہی میں تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی میں گزشتہ سہ ماہی کے مقابلے میں 28 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ حکومتی اخراجات میں تقریباً 3.5 فیصد کمی دیکھی گئی۔
توانائی کے شعبے کو عالمی کشیدگی اور خطے کی صورتحال کے باعث مشکلات کا سامنا رہا، جس کے نتیجے میں سعودی عرب کی تیل پیداوار متاثر ہوئی، تاہم عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے نے آمدنی کو سہارا دیا۔
رپورٹ کے مطابق سعودی عرب نے کم پیداوار کے باوجود تیل کی فروخت سے زیادہ آمدنی حاصل کی، جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ماہرین کے مطابق سعودی بجٹ اب بھی توازن میں نہیں آیا، کیونکہ اخراجات پورے کرنے کے لیے تیل کی قیمتوں کا بلند رہنا ضروری ہے۔ ریاض کو موجودہ اخراجات پورے کرنے کے لیے زیادہ قیمتوں والے خام تیل کی ضرورت ہے۔
سعودی حکومت نے پہلے ہی وژن 2030 کے بعض منصوبوں پر نظرثانی کا عندیہ دیا ہے، جبکہ کچھ منصوبوں میں تاخیر یا اخراجات میں کمی کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔
بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے مطابق تیل کی قیمتوں میں بہتری سعودی معیشت کو سہارا دے سکتی ہے، تاہم پیداوار میں کمی اور عالمی حالات بدستور بڑے چیلنجز ہیں۔