امن منصوبے کے باوجود غزہ پر اسرائیلی حملے، 2 فلسطینی شہید
علاقے میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلی۔ حملوں کے باعث بے گھر افراد کے متعدد خیموں کو بھی نقصان پہنچا۔
غزہ: مجوزہ امن منصوبے کے تحت حماس کی جانب سے غیر مسلح ہونے پر آمادگی کی اطلاعات سامنے آنے کے چند گھنٹوں بعد اسرائیلی فوج نے غزہ کے مختلف علاقوں میں فضائی حملے کیے، جن کے نتیجے میں 2 فلسطینی شہید جبکہ متعدد افراد زخمی ہو گئے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق وسطی غزہ کی صلاح الدین اسٹریٹ اور صابرہ محلے میں ہونے والے حملوں میں 2 فلسطینی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
فلسطینی ذرائع کے مطابق دیر البلح میں الاقصیٰ اسپتال کے قریب واقع ایک عمارت کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس سے علاقے میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلی۔ حملوں کے باعث بے گھر افراد کے متعدد خیموں کو بھی نقصان پہنچا۔
رپورٹس کے مطابق خان یونس کے مشرقی علاقوں میں اسرائیلی توپ خانے سے گولہ باری کی گئی، جبکہ شمالی غزہ میں ایک رہائشی عمارت پر فضائی حملے کے نتیجے میں متعدد فلسطینی زخمی ہوئے، جنہیں طبی امداد کے لیے قریبی اسپتال منتقل کیا گیا۔
دوسری جانب مقبوضہ مغربی کنارے میں بھی کشیدگی برقرار رہی۔ فلسطینی خبر رساں اداروں کے مطابق المغیر گاؤں میں اسرائیلی آبادکاروں کی فائرنگ سے 10 سالہ فلسطینی بچہ زخمی ہو گیا، جبکہ نابلس کے قریب اسرائیلی فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے متعدد فلسطینیوں کو حراست میں لے لیا۔