جاپانی کرنسی کی گرتی قدر روکنے کے لیے امریکا میدان میں آگیا

یہ 2011 کے بعد پہلا موقع ہے جب امریکا اور جاپان نے کرنسی مارکیٹ میں اس نوعیت کی مشترکہ کارروائی کی ہے۔

August 3, 2026 · بام دنیا

امریکا اور جاپان نے تصدیق کی ہے کہ جاپانی کرنسی ین کی مسلسل گرتی ہوئی قدر کو مستحکم کرنے کے لیے دونوں ممالک نے مشترکہ طور پر مالیاتی منڈی میں مداخلت کی ہے۔

جاپان کی وزارتِ خزانہ کے مطابق گزشتہ ہفتے ین کی قدر کئی دہائیوں کی کم ترین سطح تک پہنچنے کے بعد امریکی محکمۂ خزانہ کے تعاون سے مارکیٹ میں ین کی خریداری کی گئی تاکہ کرنسی کی مزید کمزوری کو روکا جا سکے۔

یہ 2011 کے بعد پہلا موقع ہے جب امریکا اور جاپان نے کرنسی مارکیٹ میں اس نوعیت کی مشترکہ کارروائی کی ہے۔ اس سے قبل مشرقی جاپان میں آنے والے تباہ کن زلزلے اور سونامی کے بعد بھی دونوں ممالک نے مل کر مالیاتی اقدامات کیے تھے۔

جاپانی وزارتِ خزانہ اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اگر ضرورت پیش آئی تو مستقبل میں بھی کرنسی کے غیر معمولی اتار چڑھاؤ کو روکنے کے لیے ایسے اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔

معاشی ماہرین کے مطابق جاپانی ین کی کمزوری کی بڑی وجہ جاپان اور امریکا کے درمیان شرحِ سود کا نمایاں فرق ہے۔ امریکا میں نسبتاً بلند شرحِ سود سرمایہ کاروں کو ڈالر کی جانب راغب کرتی ہے، جس کے باعث ین پر دباؤ بڑھ جاتا ہے۔

بینک آف جاپان نے حالیہ مہینوں میں شرحِ سود میں اضافہ کیا ہے، تاہم اس کے باوجود امریکی شرحِ سود اب بھی زیادہ ہونے کے باعث ین کو مطلوبہ استحکام حاصل نہیں ہو سکا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جاپانی کرنسی دباؤ کا شکار تھی اور اسے استحکام دینے کے لیے تعاون فراہم کیا گیا۔

مالیاتی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکا اور جاپان کی مشترکہ مداخلت عالمی مالیاتی منڈیوں میں استحکام برقرار رکھنے کی کوششوں کا حصہ ہے، جبکہ آنے والے دنوں میں سرمایہ کار دونوں ممالک کی آئندہ پالیسیوں پر گہری نظر رکھیں گے۔