ایک سال پہلے صحافی خاور حسین اور حالیہ دنوں بزنس مین میر علی کی پراسراراموت میں گہری مماثلت

ڈیجیٹل فٹ پرنٹ، گاڑی کے استعمال اور جائے وقوعہ کی یکسانیت ۔دونوں کیسزمیں مسنگ لنکس ہیں

August 3, 2026 · امت خاص

فائل فوٹو

 

گزشتہ سال سانگھڑ میں قتل ہونے والے نوجوان صحافی خاور حسین اور حالیہ دنوں کراچی میں پراسرارموت کا شکار ہونے والے نوجوان تاجر میر علی رضا کے کیس میں حیرت انگیز مماثلت پائی جاتی ہے۔

دونوں نوجوانوں کی اموات میں ڈیجیٹل فٹ پرنٹ، گاڑی کے استعمال اور جائے وقوعہ کے حوالے سے گہری مماثلت نے تفتیشی ماہرین کو حیران کر دیا ہے۔

واضح رہے کہ خاور حسین اور میر علی رضا کے قتل میں کوئی باہمی تعلق نہیں۔

خاور حسین کی موت اگست 2025 میں ہوئی اور پولیس انکوائری کمیٹی نے حتمی طور پر اسے خودکشی قرار دیا تھا، تاہم اس کیس میں ابھی تک کئی سوالات کے جواب باقی ہیں، مگر میر علی رضا کا کیس بظاہر ایک واضح اغوا اور قتل کی واردات دکھائی دیتا تھا جسے اب بعض تفتیشی ذرائع ممکنہ خودکشی کے تناظر میں بھی دیکھ رہے ہیں۔ لیکن دونوں کیسزکے تانے بانے اورواقعات میں حیرت انگیز یکسانیت موجود ہے۔

خاور حسین کی موت سانگھڑ میں حیدرآباد روڈ پر ایک ریستوران کی پارکنگ میں ہوئی تھی ، میر علی رضا گلستانِ جوہر بلاک 1 میں جھاڑیوں کے قریب موت کا شکار ہوئے۔

دونوں واقعات کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ نجی ٹیلی ویژن چینل کے رپورٹرخاور حسین اپنی مرضی سے ذاتی گاڑی میں کراچی سے سانگھڑ گئے۔ میر علی رضا صبح چار بجے سفید رنگ کی کرائے کی آن لائن ٹیکسی پر گھر سے نکلے۔

خاور حسین کراچی سے تنہا گاڑی چلاتے ہوئے سانگھڑ پہنچے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق وہ راستے میں کہیں نہیں رکے لیکن ان کے سفر میں 50 منٹ کا ایک مسنگ لنک تھا جس کا سراغ نہیں مل سکا۔ ان کی لاش گاڑی کی سیٹ سے ہی برآمد ہوئی تھی۔

میر علی رضا اپنی رہائش گاہ سے صبح چار بج کر نومنٹ پرسفید رنگ کی آن لائن ٹیکسی میں بیٹھے۔ سی سی ٹی وی میں انہیں گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بیٹھتے دیکھا گیا، جس کے بعد وہ لاپتہ ہوئے اور پھر ان کی لاش ملی۔

پولیس نے ڈرائیور کا بیان بھی ریکارڈ کر لیا ہے جس کا کہنا ہے کہ نوجوان مسافر نےفجر کے وقت بلند آواز میں اصرار کے ساتھ میوزک لگوایا۔

سی سی ٹی وی ریکارڈ کے مطابق خاور حسین نے اپنی زندگی کے آخری چند گھنٹوں میں طویل موبائل فون کالز کی تھیں۔موت سے چند لمحے پہلے تک ان کا موبائل فون ایکٹو تھا۔ انہوں نے بینکنگ ایپ یا موبائل کے ذریعے کچھ آخری ٹرانزیکشنز کیں، جس کے بعد اچانک فون ری سیٹ کیا اور سم کارڈ نکال دیا۔

میر علی رضا نے بھی موت سے قبل سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند یاڈیلیٹ کئے یا ان سے کرائے گئے۔علاوہ ازیں میر رضا نے اپنے اکاؤنٹ سے ایک بڑی رقم والد کے اکاؤنٹ میں منتقل کی جو ان کے کسی بڑے فیصلے کا سبب ہو سکتی ہے۔

گھر سے نکلنے سے قبل میرعلی نے اپنے موبائل سے آن لائن ٹیکسی بک کی اور کچھ فنانشل ڈیجیٹل سرگرمیاں دکھائیں۔ قتل کے بعد ان کا آئی فون جائے وقوعہ سے 200 گز دور ا ملا۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق خاور حسین کو کنپٹی پر انتہائی قریب سے گولی لگی تھی، میر رضا کو سینے پر انتہائی قریب سے گولی لگی۔

دونوں کا آخری آن ریکارڈ انٹرایکشن کس کے ساتھ ہوا؟ خاور حسین نے سانگھڑ پہنچ کر ہوٹل کے چوکیدار سے آرڈر لینے کا کہا لیکن کچھ دیر بعد جب چوکیدار گاڑی کے قریب گیا تو وہ دم توڑ چکے تھے۔

میر علی رضااپنی والدہ اور اہل خانہ سے یہ کہہ کر نکلے تھے کہ “میں بس 10 منٹ میں واپس آ رہا ہوں” جس کے بعد ان کا فون بند ہو گیا اور اس کے بعد ان کی کسی سے گفتگو ریکارڈ پر موجود نہیں صحافی خاور حسین کو جس پستول سے گولی لگی وہ لائسنس یافتہ اور ان کے اپنے نام پر تھا، موت کے بعد پستول ان کی گود میں دائیں ہاتھ میں موجود پایا گیا۔دوسری جانب میر رضا کی پولیس کو ملنے والی سی سی ٹی وی کے مطابق وہ اپنی دکان سے گارڈ کا پستول لے کر نکل رہا ہے۔تفتیش کے مطابق دکان بند ہوتے وقت گارڈ پستول وہیں رکھ کر جاتا ہے جس کا لائسنس اسی گارڈ کے نام پر ہے۔

میر علی رضا کے کیس میں ابتدائی طور پر سوشل میڈیا پر یہ خبریں پھیلیں کہ ان کے چہرے کو تیزاب سے جلایا گیا ہے، تاہم پوسٹ مارٹم رپورٹ نے جسم جلانے کی تردید کی ہے اور بتایا کہ لاش گرمی کی وجہ سے خراب ہوئی تھی۔یہ بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ قریب موجود خطرناک مکھیوں نے لاش پر حملہ کیا جس سے چہرے کی شناخت متاثر ہوئی۔

میر رضا علی کیس میں پولیس نے نرسری کے ایک ملازم کو حراست میں لیا ہے اور شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کوئی قریبی شخص یا کاروباری حریف اس گھناؤنی سازش کے پیچھے ہو سکتا ہے۔

خاور حسین کیس کی فائل “خودکشی” کی حتمی رپورٹ کے ساتھ بند ہو گئی مگرمیر علی رضا کا کیس کراچی پولیس کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ دونوں واقعات میں موبائل فونز کا آخری وقت میں مخصوص استعمال اور گاڑیوں کا سفر یہ واضح کرتا ہے کہ اگر یہ کسی بھی لحاظ سے قتل کے واقعات ہیں تو مجرم اب متاثرین کے ڈیجیٹل ڈیٹا کو مٹانے کے لیے جدید ترین ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں۔

دونوں کیسز میں یہ شبہ ظاہر کیا گیا ہے کہ مقتولین کسی نادیدہ دباؤ، مالیاتی تنازع، یا ڈیجیٹل بلیک میلنگ کا شکار تھے، جس کی وجہ سے انہوں نے اپنے اکاؤنٹس ڈیلیٹ کیے یا فون ری سیٹ کیے۔

پولیس کو معلوم ہوا ہے کہ میر رضا نے ڈیجیٹل کرنسی میں اپنے اور کچھ جاننے والوں کے پانچ کروڑ روپے لگا رکھے تھے مگر تین چار ماہ پہلے ہونے والے نقصان کے بعد وہ بہت ڈپریشن کا شکار تھا۔اپریل سے اس نے انویسٹرز کو منافع دینا ترک کر دیا تھا۔تفتیشی ذرائع کے مطابق ان کا دباؤ یقینی طور پر ہو سکتا ہے، خاندانی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس دوران میر رضا نے دوستوں سے بھاری قرض بھی مانگا جو نہیں مل سکا۔یہی معاملہ اسے شدید ذہنی دباؤ کی طرف لایا۔تاہم کیس کی مکمل تفتیش کے لیے سرمایہ
کاروں کا سامنے آنا بھی ضروری ہے۔