بھارت میں گرجا گھروں پر قبضے کی تیاری، قانونی ترمیم پر امریکی اراکین کانگریس کو تشویش کیوں

مسلمانوں کے بعد عیسائی بھی نشانے پر- امریکی رکن کانگریس نے تشویش ظاہر کردی

August 5, 2026 · بام دنیا

بھارتی پارلیمنٹ میں زیرِ بحث فارن کنٹری بیوشن (ریگولیشن) امینڈمنٹ بل 2026 (FCRA) نے جہاں بھارت میں سول سوسائٹی اور اقلیتی تنظیموں کو تشویش میں مبتلا کیا ہے، وہاں یہ معاملہ اب بین الاقوامی سطح پر بھی گونجنے لگا ہے۔ امریکی اراکینِ کانگریس نے اس قانون پر سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے بھارت میں مسیحی برادری اور ان کے گرجا گھروں کو نشانہ بنانے کی ایک دانستہ کوشش قرار دیا ہے۔**

امریکی ریاست ویسٹ ورجینیا سے تعلق رکھنے والے ریپبلکن کونسلر رائے ایم مور (Rep. Riley M. Moore) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے ایک بیان میں اس قانون کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے لکھا:
“حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے کے چند دہائیوں بعد ہی سینٹ تھامس نے مالابار ساحل کا سفر کیا تھا، اور تب سے مسیحی بھارت میں موجود ہیں۔ لیکن اس طویل تاریخ کے باوجود، بھارتی پارلیمنٹ FCRA قوانین میں ایسی ترامیم پر غور کر رہی ہے جس سے حکومت کو گرجا گھروں اور مذہبی فلاحی اداروں پر قبضہ کرنے کی اجازت مل جائے گی۔ یہ مسیحیوں پر واضح حملہ ہے۔ اگر یہ بل اسی طرح آگے بڑھتا ہے تو یہ بھارت اور امریکہ کے دوطرفہ تعلقات میں ایک بڑی تشویش کا باعث بنے گا”

مور کے اس بیان کو امریکی سیاسی حلقوں میں بھارت کے لیے ایک واضح تنبیہ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جہاں یہ خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ اس بل کی منظوری سے دونوں ممالک کے سفارتی اور اسٹریٹجک تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔

قانون میں مجوزہ ترامیم کیا ہیں؟

مودی حکومت کی جانب سے متعارف کروائے گئے اس نئے بل کے تحت غیر ملکی فنڈنگ حاصل کرنے والی تمام غیر سرکاری تنظیموں (NGOs)، خیراتی اداروں اور مذہبی اداروں کے اثاثوں پر حکومتی کنٹرول کو وسیع کیا جا رہا ہے۔ قانون کی اہم ترین اور متنازع شقیں درج ذیل ہیں.

حکومتی اتھارٹی کا قیام: بل کے تحت ایک سرکاری “ڈیزینیٹڈ اتھارٹی” (Designated Authority) قائم کی جائے گی۔
اثاثوں پر قبضہ:اگر کسی تنظیم کا FCRA لائسنس منسوخ، ختم (Expire)، یا وہ خود سرنڈر کر دیتی ہے، تو یہ سرکاری اتھارٹی اس تنظیم کے تمام غیر ملکی فنڈز اور ان فنڈز سے بنائے گئے اثاثوں (جیسے زمین، عمارتیں وغیرہ) کو عارضی یا مستقل طور پر اپنے قبضے میں لے سکے گی۔ [8, 10]
**عدالتی منظوری کے بغیر کارروائی: ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اتھارٹی کسی عدالتی فیصلے یا ٹرائل کے بغیر، محض انتظامی حکم نامے کے ذریعے کسی بھی ادارے کی پراپرٹی ضبط کر سکتی ہے۔

گرجا گھروں اور فلاحی اداروں پر قبضے کا خدشہ کیوں؟
بین الاقوامی حقوقِ انسانی کی تنظیموں اور مذہبی آزادی کے لیے کام کرنے والے اداروں (جیسے [انٹرنیشنل کرسچن کنسرن](https://persecution.org/2026/07/30/indias-proposed-fcra-amendment-raises-new-threats-for-christian-ministries/)) کے مطابق، یہ قانون براہِ راست بھارت کے غریب اور کمزور طبقات کے لیے کام کرنے والے گرجا گھروں، مسیحی اسکولوں، اسپتالوں اور یتیم خانوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال ہو سکتا ہے۔
بھارت میں ہزاروں ایسے فلاحی ادارے اور گرجا گھر ہیں جو بیرونِ ملک مقیم مسیحی تنظیموں اور شہریوں کے عطیات پر چلتے ہیں۔ پچھلے چند برسوں میں بھارتی حکومت نے ہزاروں این جی اوز کے لائسنس منسوخ کیے ہیں۔ نئے قانون کے بعد، لائسنس منسوخ ہوتے ہی ان گرجا گھروں، اسکولوں اور اسپتالوں کی زمینیں اور عمارتیں براہِ راست مودی حکومت کی ملکیت میں چلی جائیں گی، جنہیں حکومت آگے بیچ بھی سکتی ہے۔

بھارتی حکومت کا موقف
دوسری جانب، نئی دہلی حکومت نے ان تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے اس بل کا دفاع کیا ہے۔ بھارتی وزارتِ داخلہ اور سرکاری پریس انفارمیشن بیورو (PIB) کے مطابق اس ترمیم کا مقصد غیر ملکی فنڈز کے استعمال میں شفافیت اور احتساب لانا ہے۔
حکومت کا دعویٰ ہے کہ کچھ غیر ملکی فنڈز کو بھارت کی سالمیت کے خلاف، غیر قانونی طور پر مذہبی تبدیلی (Religious Conversions) اور ملک مخالف بیانیے کو فروغ دینے کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا، جسے روکنا لازمی ہے۔