زائرین کیلئے کھانے کے اخراجات پیشگی جمع کرانے کا حکم،عمرے کی لاگت کتنی بڑھے گی

یکم ربیع الاول سے فوڈ واؤچر کی قیمت عمرہ پیکیج کا حصہ ہوگی- ہوٹل بکنگ کے قواعد بھی تبدیل

August 5, 2026 · بام دنیا

سعودی عرب کی وزارتِ حج و عمرہ نے عمرہ زائرین کے لیے ایک بڑی اور دور رس انتظامی تبدیلی کا فیصلہ کیا ہے۔ اس نئے قانون کے تحت اب ٹرانسپورٹیشن اور ہوٹل سروسز کی طرح عمرہ زائرین کے لیے کھانے پینے کے اخراجات (Meal Vouchers) بھی پیشگی وصول کیے جائیں گے اور انہیں براہِ راست عمرہ ویزا فیس کا حصہ بنا دیا جائے گا۔**

سعودی حکام کی جانب سے موصولہ اطلاعات کے مطابق، اس نئی کیٹرنگ پالیسی کا باقاعدہ اطلاق یکم ربیع الاول یعنی 14 یا 15 اگست سے ہونے جا رہا ہے۔ ابتدائی مرحلے میں اس لازمی قانون کا نفاذ دنیا کے چار مخصوص ممالک پر کیا گیا ہے، جن میں پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور مصر شامل ہیں۔

عمرہ پیکیج کے اخراجات میں کتنا اضافہ ہوگا؟

نئی پالیسی کے تحت ہر عمرہ زائر سے ان کے قیام کی مدت کے مطابق یومیہ تقریباً 20 سعودی ریال (SAR) اضافی وصول کیے جائیں گے۔
موجودہ اوپن مارکیٹ کرنسی ریٹ (تقریباً 1 سعودی ریال = 74 پاکستانی روپے) کے حساب سے اگر ایک عام زائر کے 15 دن کے عمرہ پیکیج کا تخمینہ لگایا جائے، تو اخراجات کا فرق کچھ یوں بنتا ہے:

یومیہ اضافی خرچہ: 20 ریال (تقریباً 1,480 پاکستانی روپے)
15 دن کے قیام کا مجموعی اضافہ:0300 ریال (تقریباً 22,200 پاکستانی روپے)
21 دن کے قیام کا مجموعی اضافہ: 420 ریال (تقریباً 31,080 پاکستانی روپے)

یہ اضافی رقم ٹریول ایجنٹس کو ویزا پروسیسنگ (BRN کوڈ) کے وقت ہی سسٹم میں ادا کرنی ہوگی، جس کی وجہ سے پاکستان میں ٹریول ایجنسیاں اپنے عمرہ پیکجز کے نرخوں پر نظرثانی کر رہی ہیں۔

ہوٹل سٹے اور اقامہ ہولڈرز سے متعلق نئی تبدیلیاں
کھانے کے علاوہ ہوٹل بکنگ سے متعلق قوانین کو بھی مزید سخت کر دیا گیا ہے۔ اب زائرین کے لیے اسی مخصوص ہوٹل میں پورے دن (Full Day) کا قیام اور بکنگ لازمی ہے، جہاں وہ ٹھہرے ہوئے ہیں۔ اب جزوی یا عارضی ایڈجسٹمنٹ ممکن نہیں ہوگی۔
سعودی عرب کا قانونی اقامہ رکھنے والے مقامی رہائشی (مقیمین) اب عمرہ ویزا پر آنے والے اپنے رشتہ داروں یا مہمانوں کے ساتھ اس ہوٹل کے کمرے میں قیام نہیں کر سکیں گے۔ ان کے لیے الگ سے کمرہ یا مقامی قوانین کے مطابق رہائش لینا ہوگی۔

نئی پالیسی کا نقصان یا فائدہ؟

مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے تقریباً 10,000 سے زائد ریسٹورنٹس کو نسک (Nusuk) ایپ سے منسلک کیا گیا ہے۔ زائرین کو صرف منظور شدہ اور اعلیٰ معیار کے مقامات سے کھانا فراہم کیا جائے گا۔
زائرین کو ویزا کے ساتھ ایک مخصوص ڈیجیٹل کوڈ (QR Code) ملے گا۔ اس سے وہ مقامی ہوٹلوں یا غیر رجسٹرڈ فوڈ فراہم کرنے والوں کے ہاتھوں اوور چارجنگ یا بلیک میلنگ سے محفوظ رہیں گے۔
زائرین کو دورانِ سفر روزانہ نقد رقم ساتھ رکھنے یا کھانا تلاش کرنے کی فکر نہیں ہوگی، جس سے وہ اپنی عبادات پر زیادہ توجہ دے سکیں گے۔

لیکن اس پالیسی کے کچھ نقصانات بھی ہیں۔
پاکستان کے متوسط طبقے کے لیے، جو پہلے ہی روپے کی گرتی ہوئی قدر کی وجہ سے مہنگے عمرہ پیکجز سے پریشان ہے، فی کس 22,000 سے 30,000 روپے کا یہ فوری اضافہ ایک اضافی بوجھ بنے گا۔
زائرین اپنی مرضی یا پسند کا سستا کھانا (مثلاً سستی پاکستانی کینٹینز یا خود کھانا پکانے کی سہولت) منتخب کرنے کے مجاز نہیں رہیں گے، کیونکہ پیسے پہلے ہی کٹ چکے ہوں گے۔
کئی لوگوں نے شکایات کا اظہار کیا ہے کہ نسک ایپ پر رجسٹرڈ عربی یا انٹرنیشنل ریسٹورنٹس کا کھانا شاید جنوبی ایشیائی (پاکستانی/ہندوستانی) زائرین کے روایتی ذائقے اور مرچ مصالحے کے معیار کے مطابق نہ ہو، جس سے پیسوں کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہے۔