آبنائے ہرمز کا جنوبی راستہ تجارتی جہازوں کے لیے محفوظ ہے،سینٹکام

اسے آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری آمد و رفت کو منظم کرنے اور اس حوالے سے قواعد مقرر کرنے کا حق حاصل ہے۔

August 5, 2026 · بام دنیا

واشنگٹن: امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹکام) نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کے جنوبی بحری راستے سے تجارتی جہازوں کی آمد و رفت معمول کے مطابق جاری ہے اور یہ راستہ تمام جہازوں کے لیے کھلا اور محفوظ ہے۔

سینٹکام نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ گزشتہ تین ماہ کے دوران امریکی افواج نے خطے میں کشیدگی کے باوجود ایک ہزار سے زائد تجارتی جہازوں کو اس اہم بین الاقوامی آبی گزرگاہ سے محفوظ طریقے سے گزرنے میں مدد فراہم کی، جبکہ یہ عمل اب بھی جاری ہے۔

دوسری جانب ایران کا مؤقف ہے کہ اسے آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری آمد و رفت کو منظم کرنے اور اس حوالے سے قواعد مقرر کرنے کا حق حاصل ہے۔ ایران نے جنگ بندی کے بعد آبنائے کے شمالی حصے میں اپنی ساحلی حدود کے قریب مخصوص بحری راستے مقرر کیے ہیں اور تجارتی جہازوں کو انہی راستوں کے استعمال کی ہدایت کی ہے۔

ایران کی فوجی قیادت کا کہنا ہے کہ تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں کے لیے محفوظ راستہ وہی ہے جس کا تعین ایرانی حکام نے کیا ہے۔

ادھر امریکہ، اس کے خلیجی اتحادی اور متعدد یورپی و ایشیائی ممالک ایران کے اس مؤقف سے اختلاف رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز بین الاقوامی آبی گزرگاہ ہے اور یہاں سے بحری آمد و رفت آزاد اور بلا رکاوٹ ہونی چاہیے۔

اسی دوران امریکہ سمیت کئی ممالک پر مشتمل جوائنٹ میری ٹائم انفارمیشن سینٹر نے جہازوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے میں عمانی پانیوں سے گزرنے والے راستے کو ترجیح دیں تاکہ محفوظ اور مسلسل بحری آمد و رفت برقرار رکھی جا سکے۔