ترکیہ کی بحیرہ اسود میں جہازوں پر حملوں کی مذمت

ایسے واقعات بین الاقوامی بحری تجارت اور عالمی غذائی تحفظ کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔

August 5, 2026 · بام دنیا
ترکیہ کی بحیرہ اسود میں جہازوں پر حملوں کی مذمت

 استنبول: ترکیہ نے بحیرہ اسود میں دو تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے والے ڈرون حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے واقعات بین الاقوامی بحری تجارت اور عالمی غذائی تحفظ کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔

ترک وزارت خارجہ کے مطابق دونوں جہاز روسی بندرگاہ نووروسیسک سے روانگی کے بعد بحیرہ اسود میں ڈرون حملوں کا نشانہ بنے، جس کے نتیجے میں عملے کے متعدد افراد زخمی ہوئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ زخمیوں کی حالت پر نظر رکھی جا رہی ہے۔

ترکیہ نے روس اور یوکرین کے درمیان بحیرہ اسود میں بڑھتی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تجارتی جہازوں کو درپیش خطرات عالمی سپلائی چین اور خوراک کی ترسیل کو متاثر کر سکتے ہیں۔

ترک وزارت خارجہ نے تمام متعلقہ فریقوں پر زور دیا کہ وہ بحیرہ اسود میں بحری نقل و حمل کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کریں تاکہ عالمی تجارت متاثر نہ ہو۔

رپورٹس کے مطابق حملے کا نشانہ بننے والے دونوں جہاز یاسر اور نادیزہدا تھے، جو پاناما اور کیمرون کے پرچم تلے رجسٹرڈ ہیں، تاہم ان کی ملکیت ترک کمپنیوں کے پاس ہے۔

دوسری جانب بحیرہ اسود میں روس اور یوکرین کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ حالیہ عرصے میں بھی مختلف بحری تنصیبات اور جہازوں پر حملوں کی اطلاعات سامنے آ چکی ہیں۔

ادھر روس کے زیر قبضہ کریمیا کے شہر سیواستوپول میں فائرنگ کے ایک واقعے میں ایک فوجی سمیت چار افراد ہلاک ہوئے۔ روسی حکام کے مطابق حملہ آور کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔

اسی دوران ماسکو کے قریب ایک صنعتی علاقے میں مبینہ یوکرینی ڈرون حملے کے نتیجے میں ہلاکتوں اور زخمیوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جبکہ کئی مقامات پر آگ لگنے کی بھی اطلاع دی گئی۔

تجزیہ کاروں کے مطابق بحیرہ اسود میں بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیاں روس اور یوکرین تنازع کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہیں، جس کے اثرات عالمی تجارت، توانائی کی ترسیل اور خوراک کی فراہمی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔