میگنیشیم بلڈ پریشر کیسے کم کرتا ہے اور اسے خوارک میں کیسے شامل کریں؟
خون کی نالیوں کو نرم کرنے کے علاوہ سوڈیم بھی کنٹرول کر لیتا ہے، کچھ غذاؤں میں قدرتی طور پر موجود ہے
بلند فشار خون (ہائی بلڈ پریشر) موجودہ دور میں ایک سنگین عالمی طبی مسئلہ بن چکا ہے، جسے طبی ماہرین “خاموش قاتل” (Silent Killer) کا نام دیتے ہیں۔ اکثر لوگ بلڈ پریشر کو قابو میں رکھنے کے لیے صرف نمک (سوڈیم) کی کمی پر توجہ دیتے ہیں، لیکن جدید طبی تحقیقات نے یہ ثابت کیا ہے کہ جسم میں ایک خاص معدنیات یعنی میگنیشیم (Magnesium) کی مناسب مقدار ہائی بلڈ پریشر کو روکنے اور اسے معمول پر لانے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔
امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن (AHA) اور ہارورڈ ہیلتھ جیسے معتبر اداروں کے مطابق، میگنیشیم دل کی صحت اور خون کی نالیوں کی لچک کو برقرار رکھنے کے لیے ایک بنیادی ایندھن کی حیثیت رکھتا ہے۔
میگنیشیم بلڈ پریشر کیسے کم کرتا ہے؟
انسانی جسم میں میگنیشیم 300 سے زائد بائیو کیمیکل افعال کو کنٹرول کرتا ہے۔ یہ قدرتی کیلشیم چینل بلاکر (Natural Calcium Channel Blocker) ہے۔ طبی جریدے PMC Cardiovascular کی ایک ریسرچ کے مطابق، میگنیشیم جسم میں ایک قدرتی کیلشیم بلاکر کے طور پر کام کرتا ہے۔ خلیات میں کیلشیم پٹھوں اور خون کی نالیوں کو سکڑنے (Contract) پر مجبور کرتا ہے، جبکہ میگنیشیم اس کے برعکس نالیوں کو آرام (Relax) دیتا ہے۔ جب خون کی نالیاں پرسکون اور کشادہ ہوتی ہیں، تو خون کا دباؤ خود بخود کم ہو جاتا ہے۔
میگنیشیم جسم میں نائٹرک آکسائیڈ (Nitric Oxide) نامی مالیکیول کی پیداوار کو بڑھاتا ہے۔ یہ مالیکیول خون کی نالیوں کی اندرونی دیواروں کو سگنل بھیجتا ہے جس سے وہ کھل جاتی ہیں (Vasodilation) اور خون کا بہاؤ بلا رکاوٹ اور ہموار ہو جاتا ہے۔
میگنیشیم خلیات کے اندر پوٹاشیم اور سوڈیم کے توازن کو برقرار رکھتا ہے۔ یہ گردوں کے ذریعے جسم سے اضافی نمکیات (سوڈیم) کو خارج کرنے میں مدد کرتا ہے، جس سے خون کا حجم نارمل رہتا ہے اور دل پر اضافی دباؤ نہیں پڑتا۔
امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن (AHA) کے جریدے میں شائع ہونے والی ایک جامع میٹا اینالیسس (جس میں 2,709 مریض شامل تھے) کے نتائج بتاتے ہیں کہ میگنیشیم کا روزانہ استعمال ہائی بلڈ پریشر کے مریضوں میں سسٹولک (اوپر کا) اور ڈائسٹولک (نیچے کا) بلڈ پریشر نمایاں طور پر کم کرتا ہے، خاص طور پر ان لوگوں میں جو پہلے سے بلڈ پریشر کی ادویات لے رہے ہوں۔
نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (NIH) کے گائیڈ لائنز کے مطابق ایک بالغ انسان کو روزانہ درج ذیل مقدار میں میگنیشیم کی ضرورت ہوتی ہے:
مرد (عمر 19-70+ سال): 400 سے 420 ملی گرام (mg) روزانہ
خواتین (عمر 19-70+ سال): 310 سے 320 ملی گرام (mg) روزانہ
میگنیشیم کو خوراک میں شامل کرنے کے بہترین طریقے
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ میگنیشیم کو سپلیمنٹس کے بجائے قدرتی غذاؤں سے حاصل کرنا سب سے محفوظ اور بہترین طریقہ ہے۔ آپ درج ذیل غذاؤں کو اپنی روزمرہ خوراک کا حصہ بنا سکتے ہیں:
ہری پتوں والی سبزیاں (پالک اور ساگ)
پالک میگنیشیم کا پاور ہاؤس ہے۔ محض آدھا کپ ابلی ہوئی پالک کھانے سے تقریباً 78 ملی گرام میگنیشیم حاصل ہوتا ہے، جو روزانہ کی ضرورت کا ایک بڑا حصہ ہے۔ سلاد، سالن یا اسموتھی کی شکل میں پالک کا استعمال بڑھائیں۔
گری دار میوے اور بیج (Nuts and Seeds)
کدو کے بیج (Pumpkin Seeds): صرف ایک اونس (تقریباً 30 گرام) کدو کے بیجوں میں میگنیشیم کی بھاری مقدار پائی جاتی ہے。
بادام اور کاجو: ایک اونس خشک بھنے ہوئے بادام سے تقریباً 80 ملی گرام میگنیشیم ملتا ہے۔ انہیں روزانہ صبح یا شام کے سنیکس (Snacks) کے طور پر کھائیں۔
سفید چاول اور میدے کی جگہ براؤن رائس (Brown Rice)، جو (Oats) اور گندم کی روٹی کا استعمال کریں۔ آدھا کپ پکے ہوئے براؤن رائس میں تقریباً 42 ملی گرام میگنیشیم ہوتا ہے۔
چنے، لوبیا (Black Beans) اور مسور کی دالیں میگنیشیم کے ساتھ ساتھ فائبر اور پوٹاشیم سے بھی بھرپور ہوتی ہیں۔ آدھا کپ پکے ہوئے کالے چنے یا لوبیا سے 60 ملی گرام میگنیشیم حاصل کیا جا سکتا ہے۔
ایک درمیانے سائز کا کیلا 32 ملی گرام میگنیشیم فراہم کرتا ہے اور اس میں موجود پوٹاشیم بھی بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے میں مددگار ہوتا ہے۔
ایسے افراد جو میٹھا پسند کرتے ہیں، وہ 70% سے زائد کوکو (Cocoa) والی ڈارک چاکلیٹ کا ایک چھوٹا ٹکڑا (ایک اونس) کھا سکتے ہیں، جس سے 64 ملی گرام میگنیشیم ملتا ہے۔
اگرچہ غذا کے ذریعے حاصل ہونے والا میگنیشیم مکمل طور پر محفوظ ہے کیونکہ گردے اضافی مقدار کو پیشاب کے راستے باہر نکال دیتے ہیں۔ تاہم، اگر آپ میگنیشیم سپلیمنٹس (گولیاں) لینا چاہتے ہیں، تو ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر ہرگز نہ لیں۔ گردوں کے امراض (Kidney Disease) میں مبتلا مریضوں کے لیے سپلیمنٹس نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔