آبنائے ہرمز پر ایران اورعمان میں محفوظ بحری راستے پر اتفاق ہوگیا
ایران اور عمان معاہدے کے مشترکہ اعلامیے کی تیاریاں کر رہے ہیں،ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کی تصدیق
فائل فوٹو
تہران: ایران اور عمان آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے راستے کی جغرافیائی حدود پر متفق ہوگئے ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران نے تصدیق کی ہے کہ تجارتی جہازوں کی آمدورفت کے لیے مجوزہ بحری راستے کے جغرافیائی نقاط پر عمان کے ساتھ اتفاق ہو گیا ہے۔
ایرانی حکام نے بتایا کہ اس وقت دونوں ممالک ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ تاہم اگر کسی تیسرے فریق (امریکا یا اسرائیل) نے مداخلت کی تو معاہدہ متاثر بھی ہو سکتا ہے۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ایران اور عمان معاہدے کے مشترکہ اعلامیے کی تیاریاں کر رہے ہیں، تاہم اگر کسی تیسرے فریق (امریکا یا اسرائیل) نے مداخلت کی تو معاہدہ متاثر بھی ہو سکتا ہے۔۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ایرانی حکام پاکستان اور قطر میں اس معاملے میں اپنے ہم منصبوں کے ساتھ رابطوں میں ہیں۔
دوسری جانب امریکی میڈیا نے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز میں امریکا، عمان اور ایران کے درمیان 60 روز کے عارضی انتظام پر اتفاق ہوا ہے، معاہدے کے تحت خلیجی ملکوں کی جانب جانے والے بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے ایرانی پانیوں کا راستہ اختیار کریں گے، جبکہ آبنائے ہرمز سے بحیرۂ عرب جانے والے بحری جہاز عمانی پانیوں سے سفر کریں گے۔
60 دن کی اس مدت کے دوران کوئی فیس نہیں لی جائے گی، فریقین 30 دن کے اندر آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں ہٹانے پر کام کریں گے۔
ادھر ایرانی سرکاری میڈیا نے واضح کیا ہے کہ مذاکرات صرف مسقط اور تہران کے درمیان ہو رہے ہیں، واشنگٹن کا ان مذاکرات سے کوئی تعلق نہیں، اگر امریکا کی جانب سے خلاف ورزیاں جاری رہیں تو ایران اور عمان کے درمیان معاہدہ طے پانے کے باوجود آبنائے ہرمز فوری طور پر نہیں کھولی جائے گی۔