کشمیر پر سلامتی کونسل کی قراردادیں اب بھی مؤثرہیں،اقوام متحدہ کا دوٹوک مؤقف

عالمی ادارہ جموں و کشمیر سے متعلق اپنے دیرینہ مؤقف پر قائم ہے اور اس میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں آئی

August 6, 2026 · بام دنیا

اقوام متحدہ نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ جموں و کشمیر کے معاملے پر اس کا مؤقف تبدیل نہیں ہوا اور یہ تنازع اب بھی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے دائرے میں موجود ہے۔

نیویارک میں معمول کی پریس بریفنگ کے دوران اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے نائب ترجمان فرحان حق نے کہا کہ کشمیر کے مسئلے کا پرامن حل اقوام متحدہ کے منشور، سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں، 1972 کے شملہ معاہدے اور انسانی حقوق کے مکمل احترام کے مطابق تلاش کیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی ادارہ جموں و کشمیر سے متعلق اپنے دیرینہ مؤقف پر قائم ہے اور اس میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں آئی۔ ان کے مطابق سیکرٹری جنرل بھی پاکستان اور بھارت کے درمیان شملہ معاہدے کی اہمیت کو اجاگر کرتے رہے ہیں، جو دونوں ممالک کے باہمی تعلقات میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق پاکستان نے 5 اگست 2019 کے بھارتی اقدام کی برسی بھی منائی۔ اسی روز بھارتی حکومت نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرتے ہوئے آئین کے آرٹیکل 370 اور 35 اے کو منسوخ کر دیا تھا۔

رپورٹس کے مطابق اس فیصلے کے بعد مقبوضہ کشمیر میں مواصلاتی نظام پر پابندیاں عائد کی گئیں، نقل و حرکت محدود کی گئی اور بڑی تعداد میں اضافی بھارتی فوج تعینات کی گئی۔

مزید یہ بھی بتایا گیا کہ بعد ازاں غیر مقامی افراد کو ڈومیسائل سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے، جن کے ذریعے انہیں مستقل رہائش اور سرکاری ملازمتوں کے حقوق دیے گئے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے خطے کی آبادی کے تناسب میں تبدیلی کی کوشش کی گئی، جبکہ بھارت ان اقدامات کو انتظامی اصلاحات قرار دیتا ہے۔