غیر قانونی پیوندکاری کیس،ڈاکٹر نادر حسین اور عدیل حیدر کی ضمانت بحالی درخواستیں مسترد

عدالتی فیصلےمیں تحقیقات کے دائرہ اختیار اور ٹرائل کے طریقہ کار پربھی اہم نکات سامنے آئے۔

August 7, 2026 · قومی

فائل فوٹو

اسلام آباد ہائی کورٹ نے انسانی اعضا کی غیر قانونی پیوندکاری کے مقدمے میں ڈاکٹر نادر حسین اور عدیل حیدر کی ضمانت بحالی کی درخواستیں خارج کر دیں۔

عدالت نے سیشن کورٹ کی جانب سے ضمانت منسوخی کا حکم برقرار رکھتے ہوئے قرار دیا کہ جوڈیشل مجسٹریٹ کا 9 جون کو ضمانت منظور کرنے کا حکم بادی النظر میں غیر قانونی، غلط اور عدالتی اختیارِ سماعت کے نقص سے متاثر تھا، جس میں قانون اور حقائق کی غلط تشریح کی گئی۔

جوڈیشل مجسٹریٹ نے 9 جون کو ملزمان کی ضمانت منظور کی تھی، جسے ایڈیشنل سیشن جج نے ایف آئی اے کی اپیل پر 20 جولائی کو منسوخ کر دیا تھا۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی ایڈیشنل سیشن جج کا فیصلہ برقرار رکھا۔

عدالت نے فیصلے میں لکھا کہ ایڈیشنل سیشن جج نے معقول اور قانونی وجوہات کی بنیاد پر ضمانت منسوخ کی، جبکہ ان کا حکم سپریم کورٹ کے ضمانت منسوخی سے متعلق وضع کردہ اصولوں کے مطابق ہے۔

عدالت نے کہا کہ درخواست گزاروں کی جانب سے جن عدالتی نظائر پر انحصار کیا گیا، وہ موجودہ مقدمے کے حقائق سے مختلف ہیں۔

فیصلے کے مطابق ڈاکٹر نادر حسین کے اکاؤنٹ میں 20 لاکھ روپے کی منتقلی اور دفعہ 164 کے بیانات ریکارڈ پر موجود ہیں۔ وہ ایک نجی اسپتال میں گردہ پیوند کاری پروگرام کے کوآرڈینیٹر کے طور پر کام کر رہے تھے۔

عدالت کے مطابق سید عدیل حیدر پر غیر قانونی انسانی اعضاء کی پیوندکاری میں سہولت کار اور ایجنٹ کے طور پر کام کرنے کا الزام ہے۔

ملزم ڈاکٹر نادر حسین اسپتال میں یورالوجسٹ اور وزٹنگ سرجن کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے، جن پر غیر قانونی طور پر گردہ پیوندکاری کے آپریشنز کرنے کا الزام ہے۔

عدالت نے قرار دیا کہ ایف آئی اے کو ہیومن آرگن ٹرانسپلانٹ ایکٹ کے تحت تحقیقات کا مکمل قانونی اختیار حاصل ہے۔

عدالت نے ٹرائل کورٹ کو ہدایت کی کہ وہ قانون کے مطابق ملزمان کے خلاف کیس کی سماعت جاری رکھے اور مقررہ وقت میں میرٹ پر فیصلہ کرے۔