گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کے حکومت سے مذاکرات ناکام

حکومت کی جانب سے ان کے مطالبات پر مؤثر پیش رفت نہ ہونے کے باعث پہیہ جام ہڑتال کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

August 8, 2026 · قومی

آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد اور دیگر ٹرانسپورٹ تنظیموں کے وفاقی اور سندھ حکومت کے ساتھ مذاکرات کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے، جس کے بعد مال بردار گاڑیوں کی ملک گیر غیر معینہ مدت کی ہڑتال شروع کردی گئی ہے۔

ٹرانسپورٹرز کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے ان کے مطالبات پر مؤثر پیش رفت نہ ہونے کے باعث پہیہ جام ہڑتال کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

مذاکرات میں وفاقی حکومت کی نمائندگی وزیر مواصلات، سیکریٹری مواصلات، چیئرمین نیشنل ہائی وے اتھارٹی اور انسپکٹر جنرل موٹروے پولیس نے کی۔

سندھ حکومت کی جانب سے کمشنر کراچی، سیکریٹری ٹرانسپورٹ، سیکریٹری ایکسائز، ڈی آئی جی ٹریفک اور ڈرائیونگ لائسنس سمیت متعلقہ محکموں کے افسران مذاکرات میں شریک ہوئے۔

آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد کے صدر ملک شہزاد اعوان نے کہا کہ وفاقی اور سندھ حکومت ٹرانسپورٹرز کے مسائل حل کرنے میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہیں، اس لیے مال بردار گاڑیوں کا پہیہ غیر معینہ مدت تک جام رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مذاکرات کے باوجود مطالبات پر خاطر خواہ پیش رفت نہ ہونے کے باعث ملک گیر ہڑتال کا فیصلہ واپس نہیں لیا جائے گا۔

ہڑتال میں آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اتحاد، آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ اونرز ایسوسی ایشن، کراچی ٹرانسپورٹ اتحاد، یونائیٹڈ گڈز ٹرانسپورٹ الائنس اور گرینڈ ٹرانسپورٹ الائنس آف پاکستان سمیت مختلف تنظیمیں شامل ہیں۔

ٹرانسپورٹرز کے مطابق ہڑتال کے باعث ملک بھر میں مال بردار گاڑیوں کی آمدورفت متاثر ہونے کا امکان ہے، جبکہ حکومت اور ٹرانسپورٹرز کے درمیان اختلافات برقرار رہنے کی صورت میں ہڑتال کا دورانیہ غیر معینہ رہے گا۔