راولاکوٹ میں الیکشن کب ہوگا؟چیف الیکشن کمشنر نے بتا دیا
سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر باغ اور حویلی میں پہلے مرحلے میں پولنگ کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
مظفرآباد: چیف الیکشن کمشنر آزاد کشمیر غلام مصطفیٰ مغل نے کہا ہے کہ اگر آئندہ تین سے چار روز میں دھرنے سے متعلق مسئلہ حل ہوگیا تو راولاکوٹ میں 20 یا 21 اگست تک انتخابات کرائے جا سکتے ہیں۔
مظفرآباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر نے بتایا کہ سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر باغ اور حویلی میں پہلے مرحلے میں پولنگ کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ باغ اور حویلی کے لیے سکیورٹی اہلکار پہنچ چکے ہیں جبکہ انتخابی سامان کی منتقلی بھی سکیورٹی اداروں کی نگرانی میں جاری ہے۔ انتہائی حساس پولنگ اسٹیشنز پر 8 اہلکار تعینات کیے جائیں گے۔
غلام مصطفیٰ مغل کے مطابق 9 اور 10 اگست کو باغ اور حویلی میں انٹرنیٹ سروس بحال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ آئندہ سات روز کے دوران راولاکوٹ میں پولنگ کی نئی تاریخ کے اعلان کی پوزیشن میں ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر دھرنے کا معاملہ تین سے چار دن میں حل ہوگیا تو راولاکوٹ میں 20 یا 21 اگست کو انتخابات کرانے کی گنجائش موجود ہے۔
چیف الیکشن کمشنر نے سیاسی رہنماؤں کی جانب سے لگائے جانے والے الزامات پر تبصرہ کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن بیان بازی کے ذریعے الزامات کا جواب نہیں دے سکتا۔
انہوں نے کہا کہ انتخابات میں دھاندلی ہوئی یا نہیں اور اگر ہوئی تو اس میں کون ملوث تھا، اس بارے میں حقائق انتخابی عمل مکمل ہونے کے بعد سامنے آئیں گے۔
غلام مصطفیٰ مغل نے مزید کہا کہ ووٹوں کی گنتی امیدواروں کے پولنگ ایجنٹس کی موجودگی میں کی جاتی ہے، تاکہ انتخابی عمل شفاف طریقے سے مکمل کیا جا سکے۔