ایرانی صدر نے مذاکرات کیلئے موجودہ وقت کو بہترین قرار دے دیا

امریکا کو اسلام آباد مفاہمتی یادداشت اور ایران و عمان کی جانب سے مشترکہ طور پر تیار کیے گئے نکات پر عمل کرنا چاہیے تھا،

August 9, 2026 · بام دنیا

تہران: ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ امریکا اب ایران کے ساتھ مذاکرات اور مفاہمت کی جانب بڑھنے پر مجبور ہے، جسے وہ تہران کی سفارتی حکمت عملی کی کامیابی قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ صورتحال کسی ممکنہ معاہدے تک پہنچنے کے لیے موزوں وقت ہے۔

تہران میں میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے مسعود پزشکیان نے کہا کہ امریکا کو اسلام آباد مفاہمتی یادداشت اور ایران و عمان کی جانب سے مشترکہ طور پر تیار کیے گئے نکات پر عمل کرنا چاہیے تھا، تاہم واشنگٹن کی جانب سے ان پر عمل نہ کیے جانے کے باعث ایران کو ردعمل دینا پڑا۔

ایرانی صدر کے مطابق موجودہ بحران سے نمٹنے کے لیے ایک خصوصی اور منظم ٹیم کی ضرورت ہے، جو صورتحال سے نمٹنے کے لیے اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایران اپنی قومی عزت، عزم اور وقار کو برقرار رکھتے ہوئے آگے بڑھے گا۔

مسعود پزشکیان نے امریکا کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ایک مجرمانہ اور استعماری طاقت قرار دیا اور واضح کیا کہ واشنگٹن کے حوالے سے ایران کی بنیادی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

انہوں نے ایرانی عوام کو خبردار کیا کہ امریکا اور اسرائیل کی شراکت داری جنگ کے ذریعے ایران کو اپنے مطالبات ماننے پر مجبور کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔ ان کے مطابق اب مخالف قوتیں ایرانی معاشرے میں اختلافات اور تقسیم کو ہوا دے کر اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کر سکتی ہیں۔

ایرانی صدر نے عوام پر زور دیا کہ وہ اس صورتحال میں محتاط رہیں اور کسی بھی ایسی کوشش کا حصہ نہ بنیں جس سے قومی یکجہتی متاثر ہو۔

مسعود پزشکیان نے کہا کہ موجودہ مرحلے میں ایران کو سب سے زیادہ اتحاد اور یکجہتی کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق ملک کی سلامتی اور دفاعی صلاحیتوں کے تحفظ کے لیے ایرانی قوم کا متحد رہنا انتہائی ضروری ہے۔

ایرانی صدر کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کے ساتھ ساتھ ممکنہ مذاکرات اور سفارتی رابطوں کے امکانات بھی زیرِ بحث ہیں۔