چترال میں سیلابی صورتحال سنگین، دریائے چترال کا بہاؤ متاثر، مزید نقصان کا خدشہ
بیری نثار، گہرت اور ملحقہ علاقوں میں دریائی کٹاؤ میں بھی تیزی آنے کی اطلاعات ہیں۔
چترال: ضلع چترال میں سیلابی صورتحال بدستور تشویشناک ہے، جہاں گہرت گول کے مقام پر ملبہ جمع ہونے سے دریائے چترال کا قدرتی بہاؤ متاثر ہوگیا ہے۔ پانی کے جمع ہونے کے باعث دریا نے عارضی جھیل یا ڈیم کی شکل اختیار کرلی ہے، جس سے قریبی آبادیوں کے لیے خطرات بڑھ گئے ہیں۔
مقامی ذرائع کے مطابق گہرت گول میں پانی کی سطح بلند ہونے سے دریائے چترال کے کنارے آباد علاقوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ بیری نثار، گہرت اور ملحقہ علاقوں میں دریائی کٹاؤ میں بھی تیزی آنے کی اطلاعات ہیں۔
سیلابی پانی کے باعث زرعی زمینیں مسلسل متاثر ہو رہی ہیں جبکہ متعدد مکانات بھی دریائی کٹاؤ کی زد میں آنے کا خدشہ ہے۔ مقامی افراد کے مطابق اگر پانی کا دباؤ مزید بڑھا تو صورتحال سنگین ہوسکتی ہے اور بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے۔
اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ گہرت گول کے مقام پر ملبہ جمع ہونے کے باعث بننے والی عارضی رکاوٹ سے پانی کی سطح میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ممکنہ نقصان سے قبل ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے جائیں اور دریائے چترال کے قدرتی بہاؤ کو فوری طور پر بحال کیا جائے۔
متعلقہ اداروں اور ضلعی انتظامیہ کے حکام کی جانب سے متاثرہ علاقوں کے دورے کیے جا رہے ہیں، تاہم مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ صرف دوروں کے بجائے عملی اقدامات بھی فوری طور پر کیے جانے چاہئیں۔
شہریوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر دریا کا بہاؤ جلد بحال نہ کیا گیا تو مزید زرعی اراضی کے دریا برد ہونے کے ساتھ رہائشی مکانات کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔
مقامی آبادی نے انتظامیہ اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ صورتحال کا فوری نوٹس لے کر دریائی راستے سے ملبہ ہٹایا جائے اور سیلابی پانی کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ ممکنہ بڑے نقصان سے بچا جا سکے۔