صرف ڈی این اے سے معلوم ہوگا لاش میر رضا کی ہے یا نہیں،سابق ایس ایس پی

نیاز احمد کھوسہ کا فنگر پرنٹس ختم ہونے کا دعوی، سنا ہے میر رضا نے انشورنس کے رکھی تھی، سابق پولیس افسر

August 9, 2026 · قومی

پراسرار حالات میں ہلاک ہونے والے نوجوان تاجر میر رضا علی کے کیس میں سندھ پولیس کے سابق ایس ایس پی نیاز احمد کھوسہ نے لاش کی شناخت پر سوال اٹھاتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں پہلے دن سے شبہ ہے کہ برآمد ہونے والی لاش میر رضا علی کی نہیں۔

سابق ایس ایس پی نیاز احمد کھوسہ نے اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر تفصیلی پوسٹ میں کہا کہ میر رضا علی کی قبر کشائی کے بعد ڈی این اے کے نمونے لیے جا چکے ہیں اور اب ڈی این اے رپورٹ سے ہی لاش کی شناخت سے متعلق اہم سوال کا جواب مل سکے گا۔

ان کے مطابق لاش کے فنگر پرنٹس ختم کیے گئے جبکہ چہرہ تیزاب سے مسخ کیا گیا، جس کے باعث انہیں لاش کی شناخت کے حوالے سے شبہ ہے۔ نیاز احمد کھوسہ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے اس معاملے پر بعض سینئر تفتیشی افسران سے بھی بات کی ہے اور وہ بھی شناخت کے حوالے سے تذبذب کا شکار ہیں۔

سابق پولیس افسر نے میر رضا علی کیس کا موازنہ سرجانی ٹاؤن میں سامنے آنے والے ایک حالیہ واقعے سے بھی کیا، جس میں ان کے مطابق ایک شخص نے قرض خواہوں سے بچنے اور مبینہ فراڈ کے بعد اپنی موت کا ڈرامہ رچایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس تفتیش کے نتیجے میں یہ ڈرامہ بے نقاب ہوگیا۔

نیاز احمد کھوسہ نے کہا کہ میر رضا علی کیس کی تفتیش ایس ایس پی سمی اللہ سومرو کر رہے ہیں اور پولیس نے مبینہ طور پر مقتول اور اس کے ورثا کے ڈی این اے نمونے حاصل کر لیے ہیں۔ ان کے بقول اب ڈی این اے رپورٹ کا انتظار کرنا ہوگا۔

انہوں نے لکھا “میرے ایک دوست وکیل جناب حبیب احمد صاحب سے بھی اس کیس پر گہری نظر رکھتے ہیں ان سے اس کیس کے متعلق بات ہوئی ہے اُن کا بھی یہی خیال ہے کہ میر علی رضا زندہ ہے۔”

نیاز احمد کھوسہ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی کہا کہ واقعہ کسی بھی زاویے سے خودکشی کا کیس نہیں لگتا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ میر رضا علی نے بھاری رقم کی انشورنس بھی کرا رکھی تھی۔ کھوسہ نے لکھا کہ “عوام کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیئے کہ خودکشی کے کیس میں Insurance Policy کی رقم نہیں ملتی – سنا یہ جارہا ہے کہ میر علی رضا نے بھاری رقم کی Insurance بھی لی ہوئی ہے.”