ایرانی ارکان پارلیمنٹ نے پٹرول مہنگا کرنے کی مخالفت کردی
قیمت بڑھنے کے باوجود پٹرول کی کھپت میں خاطر خواہ کمی نہیں آئی اور ملک میں روزانہ استعمال 13 کروڑ 50 لاکھ لیٹر سے تجاوز کر گیا ہے۔ارکان پارلیمنٹ
تہران: ایرانی پارلیمنٹ کے متعدد ارکان نے حکومت کو پٹرول کی قیمتوں میں مزید اضافے سے گریز کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے سبسڈی والے پٹرول کی تقسیم کے نظام میں تبدیلیاں لانے پر زور دیا ہے۔
پارلیمانی ارکان کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں اضافہ کرنے کے بجائے پٹرول کی بڑھتی ہوئی طلب کو کم کرنے کے لیے متبادل اقدامات کیے جانے چاہئیں۔ ان کے مطابق ماضی میں بھی حکومت کو پٹرول کے اضافی نرخ متعارف کرانے کے ممکنہ اثرات سے آگاہ کیا گیا تھا۔
ارکان پارلیمنٹ کے مطابق قیمت بڑھنے کے باوجود پٹرول کی کھپت میں خاطر خواہ کمی نہیں آئی اور ملک میں روزانہ استعمال 13 کروڑ 50 لاکھ لیٹر سے تجاوز کر گیا ہے۔
پارلیمانی بیان میں کہا گیا کہ جنگی حالات اور پابندیوں کے باعث بیرون ملک سے پٹرول منگوانا مشکل ہوگیا ہے۔ درآمدات کے لیے اضافی مالی وسائل مختص کرنے سے بجٹ خسارہ، زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ اور مہنگائی میں اضافے کا خدشہ ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق ملک کو طویل عرصے سے پٹرول کی پیداوار اور کھپت کے درمیان فرق کا سامنا ہے۔ مقامی ریفائنریوں سے یومیہ تقریباً 11 کروڑ لیٹر تک پٹرول تیار ہوتا ہے، جبکہ ملکی ضرورت تقریباً 13 کروڑ لیٹر روزانہ ہے۔
اس صورتحال کے باعث ایران کو روزانہ تقریباً 2 کروڑ لیٹر پٹرول کی کمی کا سامنا ہے۔ ماہرین کے مطابق علاقائی حالات اور بین الاقوامی پابندیوں کی وجہ سے پٹرول درآمد کرنا بھی ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔