بانی پی ٹی آئی، بشریٰ بی بی کی قیدِ تنہائی کا کیس،وکیل نے تحریری دلائل جمع کرا دیے
متعلقہ کمیشن بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی سے ملاقات کرکے صورتحال کا جائزہ لے اور اپنی رپورٹ عدالت میں پیش کرے۔
اسلام آباد: بانی پاکستان تحریک انصاف اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی مبینہ قیدِ تنہائی سے متعلق کیس میں بانی پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے 19 صفحات پر مشتمل تحریری دلائل عدالت میں جمع کرا دیے۔
تحریری دلائل میں جیل سپرنٹنڈنٹ کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ پر اعتراضات اٹھاتے ہوئے اسے حقائق کی مکمل عکاسی نہ کرنے والی رپورٹ قرار دیا گیا ہے۔
بیرسٹر سلمان صفدر نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ صورتحال کا آزادانہ جائزہ لینے کے لیے عدالتی معاون، لوکل کمیشن یا فرینڈ آف دی کورٹ مقرر کیا جائے۔ ان کے مطابق متعلقہ کمیشن بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی سے ملاقات کرکے صورتحال کا جائزہ لے اور اپنی رپورٹ عدالت میں پیش کرے۔
تحریری دلائل میں عدالت سے یہ بھی درخواست کی گئی ہے کہ دونوں قیدیوں کو عدالت میں طلب کرکے قیدِ تنہائی سے متعلق ان کے بیانات قلمبند کیے جائیں۔ وکیل کے مطابق ضرورت پڑنے پر ویڈیو لنک کے ذریعے بھی ان کے بیانات ریکارڈ کیے جاسکتے ہیں۔
وکیل نے ایک خصوصی بورڈ تشکیل دینے کی تجویز بھی پیش کی ہے، جس میں ماہرین، ریاست اور درخواست گزاروں کے نمائندے شامل ہوں۔ استدعا کی گئی ہے کہ بورڈ اڈیالہ جیل کا دورہ کرکے قیدیوں کو دستیاب سہولیات اور متعلقہ ریکارڈ کا جائزہ لے اور قیدِ تنہائی سے متعلق اپنی آزادانہ رپورٹ عدالت میں جمع کرائے۔
تحریری دلائل میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے لیے کتابیں اور ٹی وی فراہم کرنے کے ساتھ بانی پی ٹی آئی کو ویڈیو لنک کے ذریعے گفتگو کی سہولت دینے کی بھی درخواست کی گئی ہے۔
بیرسٹر سلمان صفدر نے مؤقف اختیار کیا کہ بانی پی ٹی آئی کے وکلا بڑی تعداد میں مقدمات میں ان کی نمائندگی کررہے ہیں، اس لیے جیل قواعد کے مطابق قانونی ٹیم کو ملاقات کی مناسب سہولت فراہم کی جائے۔
دلائل میں بانی پی ٹی آئی کے خاندان اور دوستوں سے جیل قواعد کے مطابق باقاعدہ ہفتہ وار ملاقاتیں یقینی بنانے کی بھی استدعا کی گئی ہے۔ وکیل نے عدالت سے درخواست کی کہ اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کو ملاقاتوں کے دوران غیر ضروری پابندیاں عائد نہ کرنے کی واضح ہدایات جاری کی جائیں۔
تحریری دلائل میں بانی پی ٹی آئی کی طبی رپورٹس اور مکمل میڈیکل ریکارڈ عدالت میں پیش کرنے کی درخواست بھی کی گئی ہے۔ دونوں درخواست گزاروں کے مختلف مقدمات کی تفصیلات بھی تحریری دلائل کا حصہ بنائی گئی ہیں۔
وکیل کے مطابق اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کی رپورٹ عدالتی احکامات کے مطابق مکمل معلومات فراہم نہیں کرتی۔ دلائل میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ ڈیڑھ صفحے کی رپورٹ میں قید سے متعلق اٹھائے گئے اہم خدشات اور مسائل کا مکمل احاطہ نہیں کیا گیا۔
تحریری دلائل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی نقل و حرکت کو مکمل طور پر آزاد قرار نہیں دیا جاسکتا اور دونوں کو اپنے مخصوص احاطے سے باہر جانے کی اجازت نہیں ہے۔
19 صفحات پر مشتمل تحریری دلائل جسٹس خادم حسین سومرو کی جانب سے طلب کیے جانے کے بعد عدالت میں جمع کرائے گئے ہیں۔