ترک پارلیمنٹ میں پی کے کے سے متعلق قانون بھاری اکثریت سے منظور

قانون کے حق میں 468 ارکان نے ووٹ دیا جبکہ 88 ارکان نے مخالفت کی اور 6 ارکان ووٹنگ سے غیر حاضر رہے۔

August 11, 2026 · بام دنیا

انقرہ: ترکی کی پارلیمنٹ نے کردستان ورکرز پارٹی سے وابستہ بعض سابق جنگجوؤں کے لیے سزاؤں میں نرمی اور عدالتی کارروائی محدود کرنے سے متعلق قانون منظور کرلیا ہے۔ یہ قانون انقرہ حکومت اور پی کے کے کے درمیان جاری امن عمل کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔

ترک سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق قانون کے حق میں 468 ارکان نے ووٹ دیا جبکہ 88 ارکان نے مخالفت کی اور 6 ارکان ووٹنگ سے غیر حاضر رہے۔

نئے قانون کے تحت پی کے کے کے متعدد سابق ارکان کے خلاف بعض جرائم سے متعلق تحقیقات اور عدالتی کارروائی معطل کرنے کی گنجائش پیدا کی گئی ہے۔ تاہم قتل جیسے سنگین جرائم کو قانون میں شامل نہیں کیا گیا۔

قانون کے مطابق 2005 سے پہلے کیے گئے بعض ایسے جرائم بھی اس رعایت سے مستثنیٰ ہوں گے جن میں عمر قید کی سزا مقرر ہے۔ اس کے نتیجے میں پی کے کے کے رہنما عبداللہ اوجلان اور شمالی عراق میں موجود تنظیم کے بعض اعلیٰ سطحی ارکان اس قانون کے فوائد حاصل نہیں کرسکیں گے۔

پی کے کے نے چار دہائیوں سے زائد عرصے تک ترک ریاست کے خلاف مسلح جدوجہد کی۔ تنظیم نے 2025 میں عبداللہ اوجلان کی اپیل کے بعد اپنی تحلیل کا اعلان کیا تھا اور ہتھیار چھوڑنے کے عمل کے تحت ایک علامتی تقریب بھی منعقد کی گئی۔

ترک حکومت کے حامی حلقوں نے پارلیمانی قانون کو امن عمل میں اہم پیش رفت قرار دیا ہے، جبکہ اپوزیشن کے بعض حلقوں نے اس پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ مخالفین کا کہنا ہے کہ قانون کے ذریعے مسلح گروہ کے سابق ارکان کو رعایتیں ملنے سے متعلق کئی سوالات پیدا ہوتے ہیں۔

پی کے کے کیا ہے؟

کردستان ورکرز پارٹی ایک کرد مسلح تنظیم ہے جس کی بنیاد 1978 میں عبداللہ اوجلان نے رکھی تھی۔ تنظیم نے 1984 میں ترک حکومت کے خلاف مسلح جدوجہد شروع کی۔ اس کا ابتدائی مقصد ترکی میں کردوں کے لیے علیحدہ ریاست کا قیام تھا، تاہم وقت کے ساتھ اس کے مطالبات اور سیاسی مؤقف میں تبدیلیاں بھی آتی رہی ہیں۔

کرد آبادی ترکی کے علاوہ شام، عراق اور ایران سمیت خطے کے مختلف ممالک میں موجود ہے۔ مشرق وسطیٰ کی بڑی نسلی آبادیوں میں شمار ہونے کے باوجود کردوں کی اپنی کوئی خودمختار ریاست نہیں ہے۔

ترکی میں کرد آبادی کا بڑا حصہ ملک کے جنوب مشرقی علاقوں میں آباد ہے۔ ماضی میں کرد شناخت، زبان اور ثقافتی اظہار پر مختلف ادوار میں پابندیاں عائد کی گئیں، جس کے نتیجے میں ریاست اور کرد قوم پرست گروہوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا۔

پی کے کے اور ترک ریاست کے درمیان کئی دہائیوں پر محیط مسلح تنازع کے دوران ترکی، شام اور عراق کے مختلف علاقوں میں ہزاروں افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

اب پی کے کے کی جانب سے ہتھیار چھوڑنے اور تنظیمی سرگرمیاں ختم کرنے کے اعلان کے بعد انقرہ حکومت امن عمل کو آگے بڑھانے کے لیے قانونی اقدامات کررہی ہے۔ پارلیمنٹ سے منظور ہونے والا نیا قانون بھی اسی وسیع تر عمل کا حصہ قرار دیا جارہا ہے۔