ایران کے خوف سے ٹرمپ کیٹرنگ ٹرک میں چھپ کر طیارے سے نکلے

ترکی میں دوسرے جہاز میں منتقلی کی تفصیلات واشنگٹن پوسٹ نے بے نقاب کر دیں

August 11, 2026 · بام دنیا

ایران کی جانب سے قاتلانہ حملے کے خوف کے سبب اگست 2026ء میں ترکی کے شہر انقرہ میں منعقدہ نیٹو سربراہی اجلاس کے اختتام پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ طیارہ تبدیل کرکے وہاں سے روانہ ہوئے تھے۔ اب اس واقعے کی اہم تفصیلات امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے شائع کی ہیں جس کے مطابق ٹرمپ ایک کیٹرنگ(کھانے) والے ٹرک میں چھپ کر جہاز سے نکلے۔

واشنگٹن پوسٹ کی خصوصی رپورٹ کے مطابق، ایران کی جانب سے صدر ٹرمپ اور صدارتی طیارے پر مبینہ حملے کے شدید خطرات کے پیشِ نظر امریکی خفیہ ایجنسیوں کو آخری لمحات میں اپنی حکمتِ عملی تبدیل کرنی پڑی۔

انقرہ کے ہوائی اڈے پر صدر ٹرمپ روایتی پروٹوکول اور میڈیا کے کیمروں کے سامنے صدارتی بوئنگ 747 طیارے میں سوار ہوئے۔ تاہم، جیسے ہی وہ طیارے کے اندر داخل ہوئے، سکیورٹی حکام نے ایک انتہائی خفیہ پلان پر عمل درآمد شروع کر دیا۔
طیارے کے پچھلے حصے میں ہوائی اڈے کا ایک کیٹرنگ ٹرک (کھانا سپلائی کرنے والی گاڑی) لایا گیا۔ صدر ٹرمپ، ان کے چند انتہائی قریبی مشیر اور سکیورٹی اہلکار صدارتی طیارے کے پچھلے دروازے سے نکل کر خاموشی سے اس کیٹرنگ ٹرک کے اندر منتقل ہو گئے۔ اس گاڑی کے ذریعے انہیں رن وے پر ہی کھڑے ایک دوسرے چھوٹے فوجی طیارے تک پہنچایا گیا، تاکہ کوئی بھی ان کی منتقلی کو نوٹ نہ کر سکے۔

کیٹرنگ ٹرک سے نکلنے کے بعد صدر ٹرمپ کو امریکی فضائیہ کے ایک چھوٹے ملٹری جیٹ C-32A میں سوار کرایا گیا۔ صدارتی پروٹوکول کے برعکس، اس طیارے نے ایئر فورس ون کا کال سائن استعمال نہیں کیا، بلکہ دشمن کے ریڈارز اور انٹیلیجنس کو دھوکا دینے کے لیے اسے ’’Reach 18‘‘ کا فرضی کال سائن (Call Sign) دیا گیا۔ اس خفیہ کوڈ کے ساتھ اس طیارے نے انتہائی خاموشی سے برطانیہ کی جانب پرواز بھری۔

دوسری جانب، اصل صدارتی بوئنگ 747 طیارہ رن وے سے روانگی کے لیے تیار ہو رہا تھا۔ اس طیارے میں وائٹ ہاؤس کا عملہ، سکیورٹی ٹیم کا بڑا حصہ اور امریکی صحافیوں (پریس کور) کا وفد موجود تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ طیارے میں موجود صحافی اور عملہ یہی سمجھ رہے تھے کہ صدر ٹرمپ اگلے کیبن میں موجود ہیں اور وہ انہی کے ساتھ سفر کر رہے ہیں۔
اس طیارے نے باقاعدہ “ایئر فورس ون” کے کال سائن کے ساتھ پرواز کی، تاکہ اگر ایرانی انٹیلیجنس یا کوئی اور دشمن صدر کو نشانہ بنانے کی کوشش کرے، تو ان کی توجہ اسی بڑے طیارے پر رہے، جبکہ صدر ٹرمپ پہلے ہی دوسرے طیارے میں محفوظ طریقے سے نکل چکے تھے۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکی انٹیلیجنس کو مصدقہ اطلاعات ملی تھیں کہ ایران انقرہ سے روانگی کے وقت صدارتی طیارے کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ لیکن ساتھ ہی مسئلہ یہ تھا کہ صدر ٹرمپ جس نئے بوئنگ 747 طیارے (جو قطر کی طرف سے تحفہ میں دیا گیا تھا) پر سفر کر رہے تھے، اس میں وہ جدید ترین اینٹی میزائل اور سکیورٹی سسٹمز نصب نہیں تھے جو پرانے صدارتی طیارے کا حصہ رہے ہیں۔ اس تکنیکی کمزوری کے باعث سکیورٹی اداروں نے صدر کی زندگی کو خطرے میں ڈالنے کے بجائے یہ خفیہ دھوکا دہی کا پلان ترتیب دیا۔