خیبرپختونخوامیں تعلیم سے محروم بچوں کی تعداد سے صوبائی حکومت لاعلم نکلی
ڈیٹا اکٹھا کرنے کے لیے سروے کرنے کا فیصلہ
فائل فوٹو
خیبرپختونخوا حکومت نے آؤٹ آف اسکول بچوں کو اسکولوں میں داخل کرانے کے منصوبے پر کام شروع کردیا۔
محکمہ تعلیم، بلدیات، صحت اور سماجی بہبود کے حکام نے مفاہمتی یاد داشت پر دستخط کردیے ۔ اس تقریب میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی بھی موجود رہے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ خیبرپختونخوا میں اسکولوں سے باہر بچوں سے متعلق جامع سروے کیا جائے گا، اسکولوں سے باہر بچوں کی تعداد اور مقامات معلوم کرنےکیلئے’ون میپ‘ نظام تشکیل دیا جائےگا۔
بریفنگ کےمطابق 2023 کی مردم شماری کے مطابق کے پی میں 49 لاکھ بچے اسکول سے باہر ہیں، محکمہ تعلیم خیبرپختونخوا کے مطابق 26 لاکھ بچے اسکول نہیں جاتے، پہلے مرحلے میں اسکول سے باہر 60 فیصد بچوں کو فوری طور پر داخل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
بریفنگ میں بتایا گیا ہےکہ 5 سال سےکم عمر بچوں کا ڈیٹا بھی اکٹھا کیا جائےگا تاکہ منصوبہ بندی کی جاسکے، بچوں کی تعلیم کیلئے سرکاری و کمیونٹی اسکولز، ڈبل شفٹ اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے استفادہ کیا جائے گا، غربت کے باعث اسکول چھوڑنے والے بچوں کو وظائف، زکوٰۃ اور دیگر معاونت فراہم کی جائےگی۔
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ بچوں کے وظائف کی ادائیگی کم سےکم 75 فیصد حاضری سے مشروط ہوگی، بچوں کو اقوام متحدہ کے پروگرام “جنریشن ان لمیٹڈ” کے تحت فنی تربیت فراہم کی جائے گی، شفافیت کیلئےآزاد ادارہ سروے کے ڈیٹا کے 5 فیصد حصےکی تصدیق کرے گا۔