‘مناسںب نہیں تھا لیکن ۔۔۔’آئی جی اور چیف کمشنر کی شاہی سواری پر محسن نقوی کی وضاحت
پریڈ کے آغاز اور رسمی بگی کے استعمال کے معاملے پر انسپکٹر جنرل اور چیف کمشنر اسلام آباد کو ذمہ دار قرار دینا درست نہیں۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اسلام آباد میں 14 اگست کو ہونے والی یومِ آزادی سٹی پریڈ کے دوران پروٹوکول سے متعلق سامنے آنے والی تنقید پر وضاحت جاری کردی۔
محسن نقوی نے کہا کہ پریڈ کے آغاز اور رسمی بگی کے استعمال کے معاملے پر انسپکٹر جنرل اور چیف کمشنر اسلام آباد کو ذمہ دار قرار دینا درست نہیں۔ ان کے مطابق جو کچھ ہوا وہ مناسب نہیں تھا، تاہم دونوں افسران نے اپنی مرضی سے ایسا نہیں کیا۔
وزیر داخلہ کے مطابق چیف گیسٹ اور وہ خود صدر مملکت اور وزیراعظم سے ملاقات کے باعث تقریب میں تاخیر کا شکار ہوگئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ شہری شام 5 بجے سے پریڈ کا انتظار کر رہے تھے اور تقریباً 6 بجے یہ واضح ہوگیا کہ مزید تاخیر ہوگی۔
محسن نقوی نے کہا کہ عوام کو مزید انتظار سے بچانے کے لیے افسران کو تقریب شروع کرنے کی ہدایت دی گئی۔ ان کے مطابق رسمی بگی بھی چیف گیسٹ کے لیے تیار کی گئی تھی اور منصوبے کے تحت افسران نے ان کے ہمراہ آنا تھا، تاہم غیر متوقع صورتحال کے باعث افسران نے بگی استعمال کی۔
I know what happened was not appropriate, but I want to clarify that it was neither the IG’s nor the Chief Commissioner’s Islamabad fault.
The Chief Guest and I were delayed due to the President’s meeting with the Prime Minister. The crowd had been waiting since 5:00 pm, and at… https://t.co/pkBmK45RMN
— Mohsin Naqvi (@MohsinnaqviC42) August 15, 2026
انہوں نے واضح کیا کہ آئی جی اور چیف کمشنر نے ابتدا میں ان کی غیر موجودگی میں پروگرام شروع کرنے پر تحفظات کا اظہار کیا تھا، لیکن عوام کی سہولت کے پیش نظر انہیں تقریب آگے بڑھانے کی ہدایت کی گئی۔
وزیر داخلہ نے اسلام آباد کے شہریوں کا بھی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ عوام نے 14 اگست کی تقریب کو حقیقی معنوں میں جشنِ آزادی بنا دیا۔
محسن نقوی کی یہ وضاحت اس تنقید کے بعد سامنے آئی ہے جس میں کہا جا رہا تھا کہ متعلقہ افسران نے اپنی سطح پر ایک مختصر پریڈ کا اہتمام کیا تھا۔