افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں حاصل ہیں:عاصم افتخار

پاکستان کو کالعدم تحریک طالبان پاکستان، بلوچستان لبریشن آرمی، مجید بریگیڈ اور داعش کے علاقائی گروپ سمیت مختلف مسلح تنظیموں سے خطرات لاحق ہیں

August 17, 2026 · اہم خبریں, بام دنیا

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے کہا ہے کہ افغانستان میں موجود عسکریت پسند گروہوں کی سرگرمیوں کے باعث پاکستان کو دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا ہے اور ان کے مطابق طالبان حکومت ان گروہوں کے خلاف مؤثر کارروائی کرنے میں ناکام رہی ہے۔

عرب نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے عاصم افتخار احمد نے کہا کہ اقوام متحدہ کی متعلقہ رپورٹس میں افغانستان میں مختلف دہشت گرد گروہوں کی موجودگی اور انہیں حاصل محفوظ پناہ گاہوں سے متعلق تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

پاکستانی مندوب کے مطابق 2025 میں پاکستان میں دہشت گردی سے متعلق ہزاروں واقعات پیش آئے، جن میں بڑی تعداد میں افراد جان سے گئے، جبکہ 2026 کے ابتدائی چھ ماہ میں بھی دہشت گرد حملوں کے نتیجے میں سیکڑوں پاکستانی  شہید ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو کالعدم تحریک طالبان پاکستان، بلوچستان لبریشن آرمی، مجید بریگیڈ اور داعش کے علاقائی گروپ سمیت مختلف مسلح تنظیموں سے خطرات لاحق ہیں۔ ان کے مطابق بعض گروہ پاکستان مخالف عناصر کے مفادات کے لیے پراکسی کے طور پر بھی استعمال ہو رہے ہیں۔

عاصم افتخار احمد نے الزام عائد کیا کہ طالبان حکومت کی جانب سے ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی نہ کرنے کا معاملہ صرف صلاحیت یا سیاسی عزم کی کمی تک محدود نہیں۔ ان کے مطابق ٹی ٹی پی کو افغانستان میں مبینہ طور پر پناہ گاہیں، اسلحہ، مالی وسائل اور سرحد پار کارروائیوں کے لیے سہولت حاصل ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کے دوران رہ جانے والا جدید اسلحہ بھی مختلف عسکریت پسند گروہوں کے ہاتھ لگنے کا خدشہ ہے۔

پاکستانی مندوب کے مطابق طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد عالمی برادری کو افغان حکومت سے تین بنیادی توقعات تھیں: ایک جامع سیاسی نظام، انسانی حقوق بالخصوص خواتین اور بچیوں کے حقوق کا تحفظ، اور افغان سرزمین کو دوسرے ممالک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دینا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو افغان عوام سے کوئی اختلاف نہیں، بلکہ اعتراض ان پالیسیوں پر ہے جن کے اثرات پاکستان کو براہ راست برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ طالبان قیادت کو ٹی ٹی پی سمیت مسلح گروہوں کے خلاف ایسے اقدامات کرنے چاہییں جن کی عملی طور پر تصدیق بھی ممکن ہو۔

عاصم افتخار احمد نے بتایا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے سعودی عرب، ترکیہ، چین اور قطر سمیت مختلف ممالک نے ثالثی کی کوششیں کی ہیں، تاہم ان کے مطابق مطلوبہ یقین دہانیاں حاصل نہیں ہوسکیں۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان کی عالمی تنہائی، منجمد اثاثوں اور باضابطہ سفارتی شناخت سے متعلق مسائل کے حل کی کنجی طالبان قیادت کی اپنی پالیسیوں میں تبدیلی میں ہے۔