پینٹاگون سے اختلاف مہنگا پڑ گیا،امریکی اخبار کے چیف ایڈیٹر اور رپورٹر فارغ

اخبار کے پبلشر میکسن لیڈرر کو بھی برطرفی کا نوٹس دیا گیا، حالانکہ وہ اس سے چند روز قبل ہی 30 ستمبر سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کرچکے تھے۔

August 22, 2026 · بام دنیا
فائل فوٹو

فائل فوٹو

واشنگٹن: امریکی عسکری اخبار ’اسٹارز اینڈ اسٹرائپس‘ کے چیف ایڈیٹر، پبلشر اور ایک رپورٹر کو پینٹاگون کے ساتھ اختلافات اور ادارتی معاملات پر تنقید کے بعد عہدوں سے ہٹا دیا گیا۔

رپورٹس کے مطابق چیف ایڈیٹر ایرک سلیون نے امریکی میڈیا کو بتایا کہ انہیں پینٹاگون سے متعلق اختلافات پر ایک انٹرویو دینے کے بعد عدم اطاعت کے الزام میں برطرف کیا گیا۔

اخبار کی رپورٹر لارا کورٹے کو بھی ملازمت سے فارغ کردیا گیا۔ ان کے مطابق انہیں ایک صحافی سے یہ کہنے پر کارروائی کا سامنا کرنا پڑا کہ وہ پینٹاگون یا کسی پالیسی ساز کے بجائے اپنے اخبار کی ملازم ہیں۔

رپورٹس کے مطابق اخبار کے پبلشر میکسن لیڈرر کو بھی برطرفی کا نوٹس دیا گیا، حالانکہ وہ اس سے چند روز قبل ہی 30 ستمبر سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کرچکے تھے۔

یہ کارروائی ایک ایسی رپورٹ کی اشاعت کے بعد سامنے آئی جس میں امریکی بحری جہاز یو ایس ایس ابراہام لنکن پر موجود عملے کی مشکلات اور حالات کو اجاگر کیا گیا تھا۔ رپورٹ کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران سے متعلق جنگی حکمت عملی پر بھی بحث تیز ہوگئی تھی۔

اسٹارز اینڈ اسٹرائپس امریکی خانہ جنگی کے دور سے فوجی امور کی رپورٹنگ کرنے والا معروف اخبار ہے۔ اسے وزارتِ دفاع سے مالی معاونت بھی ملتی ہے، تاہم ادارہ طویل عرصے سے اپنی ادارتی آزادی برقرار رکھنے پر زور دیتا رہا ہے۔

چیف ایڈیٹر ایرک سلیون نے پینٹاگون کی مبینہ ادارتی مداخلت پر اعتراض کرتے ہوئے کہا تھا کہ سرکاری طور پر تیار کردہ مواد کو حقائق پر ترجیح دینا ان کے لیے قابل قبول نہیں۔

دوسری جانب پبلشر میکسن لیڈرر نے پینٹاگون کے نئے منصوبوں سے اختلاف کو اپنی ریٹائرمنٹ کی وجوہات میں شامل کیا تھا۔ امریکی قانون سازوں کے ایک حلقے نے اخبار کی انتظامیہ میں تبدیلیوں کو ادارتی آزادی کے لیے تشویش ناک قرار دیا ہے۔

امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ بھی گزشتہ کچھ عرصے سے میڈیا کے کردار اور دفاعی امور کی رپورٹنگ پر سخت تنقید کرتے رہے ہیں۔