خواجہ آصف کی انگریزی تصحیح یا محسن نقوی پر سیاسی وار؟
ملک میں کرکٹ کی خراب حالت کے باوجود مسلم لیگ ن پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کو عہدے سے ہٹانے کی پوزیشن میں نہیں
فوٹو ایکس
وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک صارف کی انگریزی کی تصحیح کرتے ہوئے نئی بحث چھیڑ دی۔
سوشل میڈیا صارف فیصل رانجھا نے پاکستانی کرکٹ کی موجودہ صورتحال پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ ملک میں کرکٹ کی خراب حالت کے باوجود مسلم لیگ ن پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کو عہدے سے ہٹانے کی پوزیشن میں نہیں، جبکہ عالمی سطح پر پاکستان مذاق کا موضوع بن چکا ہے۔ اپنی پوسٹ میں انہوں نے ’’laughing stalk‘‘ کی اصطلاح استعمال کی۔
خواجہ آصف نے اس پوسٹ کو دوبارہ شیئر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ملک میں کرکٹ کی صورتحال پر صارف کے مؤقف سے اتفاق کرتے ہیں، تاہم ’’laughing stalk‘‘ کے استعمال سے اختلاف ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ درست ترکیب ’’laughing stock‘‘ ہے۔
خواجہ آصف کی جانب سے انگریزی کی یہ تصحیح سوشل میڈیا پر توجہ کا مرکز بن گئی۔ اگرچہ انہوں نے براہِ راست پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین محسن نقوی کا نام نہیں لیا، تاہم ان کے تبصرے کو بعض حلقے پاکستانی کرکٹ کے معاملات پر جاری تنقید کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔
اب سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ خواجہ آصف کا مقصد محض انگریزی کی اصلاح تھا یا ان کے تبصرے کے ذریعے پی سی بی کی کارکردگی اور اس کی قیادت پر جاری تنقید کو مزید نمایاں کرنا مقصود تھا۔